اردوئے معلیٰ

آئے، اللہ کے حبیب آئے

جاگے انسان کے نصیب، آئے

 

خیمہ زن چار سو اندھیرے تھے

آپ ہی نور کے نقیب آئے

 

بوریا جن کا تختِ شاہی تھا

آئے سادہ مگر نجیب آئے

 

مشکلیں دُور ہو گئیں ہم سے

آپ کے در کے جب قریب آئے

 

خاکِ بطحا سے جو علاج کرے

کاش ایسا کوئی طبیب آئے

 

جو بتائے رموزِ عشقِ نبی

کاش ایسا کوئی خطیب آئے

 

جب وہ لوٹے ظفرؔ تونگر تھے

آپ کے در پہ جو غریب آئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات