اردوئے معلیٰ

Search

آباد رہیں تیرے تبسم کے جزیرے

ہم بحر حوادث سے نہ ابھرے بھی تو کیا ہے

 

معمور و منور ہوں ترے روپ کے ساحل

ہم لوگ اگر پار نہ اترے بھی تو کیا ہے

 

نکھرا ہی رہے اوس کی بوندوں سا یہ چہرہ

حالاتِ گلستان نہ سدھرے بھی تو کیا ہے

 

ہم لوگ تھے شہکار ترے دستِ قضا کا

مانے بھی تو اب کیا ہے جو مکرے بھی تو کیا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ