اردوئے معلیٰ

آتی ہے یاد صورتِ جاناں کبھی کبھی

ہوتا ہے میرا دل بھی گلستاں کبھی کبھی

 

اس کشتیٔ شکستہ کو حسرت سے دیکھ کر

آیا ہے یاد منظرِ طوفاں کبھی کبھی

 

صورت بدل گئی ہے غمِ روزگار کی

بکھری ہے یوں بھی زلفِ پریشاں کبھی کبھی

 

کتنی ہی راتیں میں نے بنائیں سدا بہار

آغوش میں رہا مہِ تاباں کبھی کبھی

 

بھٹکا رہا ہے ایازؔ سرابِ حیات میں

اے دوست مثلِ چشمۂ حیواں کبھی کبھی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات