اردوئے معلیٰ

آخر میں کھلا آ کر یہ راز کہانی کا

آخر میں کھلا آ کر یہ راز کہانی کا

انجام سے ہوتا ہے آغاز کہانی کا

 

اس عہدِ تصنع کی ہر بات ہے پردوں میں

عنواں نہیں ہوتا اب غماز کہانی کا

 

تکرار بناتی ہے اب جھوٹ کو سچائی

تشہیر بدلتی ہے انداز کہانی کا

 

لے آتا ہے منظر پر، جب چاہے نیا کردار

رکھا ہے مصنف نے در باز کہانی کا

 

بننا ہی تھا آخر کو افسانۂ رسوائی

یاروں کو بنایا تھا ہمراز کہانی کا

 

مر کر بھی نہیں مرتے کردار محبت کے

رکھتا ہے انہیں زندہ اعجاز کہانی کا

 

افسانۂ ہستی میں وہ موڑ بھی آتا ہے

جب ساتھ نہیں دیتے الفاظ کہانی کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ