آرزوؤں کا نشانہ ہو گیا

آرزوؤں کا نشانہ ہو گیا

دل مرا آخر دوانہ ہو گیا

 

رہ گئی تھی اک حقیقت آخری

عشق بھی آخر فسانہ ہو گیا

 

خواب سے نکلا تو کیا دیکھا کہ وہ

خواب ہی میرا پرانا ہو گیا

 

آئنہ چہرے مقابل ہی نہیں

خود کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا

 

بجھ گیا ہے دل سرائے کا دیا

کارواں شاید روانہ ہو گیا

 

راکھ ہو کر ہی نہیں دیتا ظہیرؔ

جلتے جلتے اک زمانہ ہو گیا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سمجھو کہ ہجرت کے طلسمات میں گم ہیں
نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا،ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا
وہ بھی اب یاد کریں کس کو منانے نکلے؟
اس قدر تیر کمیں گاہِ جنوں سے نکلے
موند کر آنکھ اُن آنکھوں کی عبادت کی جائے
زخم ایسا نشاں میں آئے گا
کھو چکا قبل ازیں بول کے گویائی بھی
داغِ جنوں دھلے تو بہت صاف رہ گئے