آسماں مجھ سے خفا ہے کہ زمیں رکھتا ہوں

آسماں مجھ سے خفا ہے کہ زمیں رکھتا ہوں

میں خدا کی طرح انساں پہ یقیں رکھتا ہوں

 

مجھ سے خوش ہیں میری دھندلائی ہوئی تعبیریں

کم سے کم خواب تو آنکھوں میں حسیں رکھتا ہوں

 

میری اس خوبی کو کیوں عیب کہا جاتا ہے

چیزیں جس خانے کی ہوتی ہیں وہیں رکھتا ہوں

 

اک تعلقات ہے وضو سے بھی سبو سے بھی مجھے

میں کسی شوق کو پردے میں نہیں رکھتا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ