اردوئے معلیٰ

Search

آسماں مجھ سے خفا ہے کہ زمیں رکھتا ہوں

میں خدا کی طرح انساں پہ یقیں رکھتا ہوں

 

مجھ سے خوش ہیں میری دھندلائی ہوئی تعبیریں

کم سے کم خواب تو آنکھوں میں حسیں رکھتا ہوں

 

میری اس خوبی کو کیوں عیب کہا جاتا ہے

چیزیں جس خانے کی ہوتی ہیں وہیں رکھتا ہوں

 

اک تعلقات ہے وضو سے بھی سبو سے بھی مجھے

میں کسی شوق کو پردے میں نہیں رکھتا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ