اردوئے معلیٰ

آنِس معین غزل کا بلند قامت اور توانا شاعر

آنِس معین غزل کا بلند قامت اور توانا شاعر

آنس معین کی وفات جدید غزل کی موت ہے

———-
حیرت سےجویوں میری طرف دیکھ رہے ہو
لگتا ہے کبھی تم نےسمندر نہیں دیکھا ۔۔۔۔؟
(آنس معین)
———-
آنس معین نے اٹھاون سول لائنز کی شام دوستاں آباد میں اپنی پہلی غزل سنائی تو فخرالدین بلے بلطائفِ حیل اٹھ کر ڈارائنگ روم سے باہر چلے گئے اور جب تک آنس غزل سناتا رہا وہ کمرے میں واپس نہیں آئے اور واپس آئے تو یہ نہیں پوچھا کہ آنس کی غزل کیسی تھی اور کیا اس میں شاعری کے امکانات بھی ہیں یا نہیں ؟ ان دنوں آنس شاید ایف اے کا طالب علم تھا اور غزلوں کو پھول کی پتیوں کی طرح نصاب کی کتابوں میں چھپا کر رکھتا تھا ۔خورشید رضوی کی غزل پر آنس نے بے شاختہ انداز میں داد دی تو سجاد نقوی نے یونہی پوچھ لیا۔
”آنس میاں ۔کچھ تم بھی کہتے ہو؟“
اور آنس معین جھوٹ نہیں بول سکاتھا۔شاید بلے پر بھی اسئ روز کھلا تھا کہ صاحبزادے نے من میں جوالا سلگا رکھی ہے اور وہ شاعر بن گیا ہے۔آنس نے غزل سنائی تو ہم سب کو چپ لگ گئی ۔غزل یوں تھی
———-
وہ میرے حال پہ رویا بھی مسکرایا بھی
عجیب شخص ہے اپنا بھی ہے پرایا بھی
یہ انتظار سحر کا تھا یا تمہارا تھا
دیا جلایا بھی میںنے دیا بجھایا بھی
میں چاہتا ہوں ٹھہر جائے چشمِ دریا میں
لرزتا عکس تمہارا بھی میرا سایہ بھی
بہت مہین تھا پردہ لرزتی پلکوں کا
مجھے چھپایا بھی تونے مجھے دکھایا بھی
———-
ور ہمیں چپ اس لیے لگ گئی کہ آنس کی غزل اس کی عمر کے تجربے سے بہت آگے تھی کچھ دیر بعد جب مہر سکوت ٹوٹی تو وزیر آغا صاحب نے کہا ؛”آنس یہ غزل کاغذ پر لکھ دو۔“
آنس یہ سن کر گھبرا سا گیا اور بولا؛”کیوں انکل،کیا وزن میں گڑ بڑ ہو گئی ہے یا کوئی مضمون ٹھیک ادا نہیں ہوا ؟“
آغا صاحب بولے ؛”یہ غزل اوراق میں چھپے گی ۔“
———-
یہ بھی پڑھیں : بھارت میں آنِس معین شناسی, رفتار اور معیار ایک جائزہ
———-
یہ سنتے ہی جیسے آنس کا سارا خون سمٹ کر اس کے رخساروں میں آگیا اور وہ خوشی سے گلنار ہو گیا۔
آنس معین کی متذکرہ بالا غزل اوراق میں شائع ہوئی تو بہت پسند کی گئی لیکن آغا صاحب کو اور مجھے خوشی اس بات کی تھی کہ لمحے کو منجمند کرنے کی طرف جو اشارہ تھا یہ کسی کی گرفت میں نہیں ایا تھا اور آنس کو سب سے زیادہ داد اس شعر پر ملی تھی
———-
بیاض بھر بھی گئی اور پھر بھی سادہ ہے
تمہارے نام کو لکھا بھی اور مٹایا بھی
———-
پھر بلے صاحب ملتان چلے گئے اور آنس سے ملاقات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔مجھے فرائضِ منصبی کے سلسلے میں کوٹ ادّو جانے کا اتفاق ہوا تو بلے صاحب کے ساتھ آنس کی غزل سے بھی کبھی کبھار ملاقاتیں ہونے لگیں اور مجھے اس کی غزل میں دور جحانات بطورِ خاص نمایاں نظر آئے۔
اول ،کمال درجے کا داخلی اطمینان اور استغنیٰ
دوم،شدید درجے کا خوف اور خارجی بے اطمینانی
چنانچہ وہ اندر سے سمندر کی طرح شانت اور گہرا تھالیکن سطح پر موجوں میں تلاطم بپا تھااو بلبلے بنتے بنتے ٹوٹ جاتے تھے لیکن غزل کی عمومیت میں تجربہ جو بیضوی شکل اختیار کر لیتا ہے اس سے اکثر اوقات یہ پتا چلانا مشکل ہوجاتا ہے کہ شاعر عصری آگہی کو شعری صورت دے رہا ہے یا اپنی واردات پر سخن کا پردہ ڈال رہا ہے ۔ اس کی ذات کی گرہ تو اس وقت کھلتی ہے جب اس کے اشعار کسی خاص واقعے کے پس منظر یا پیش منظر سے ہمارے سامنے نیا مفہوم نکھار دیتے ہیں ۔چناچہ جب وہ کہہ رہا تھا
———-
زمیں ہے آنگن اورآسمان سائباں اپنا
گُھٹا گُھٹا سا ہے پھر بھی کتنا مکاں اپنا
———-
تو سب لوگوں نے سمجھا کہ وہ شہر کے تنگ مکانوں کا ذکر کر رہا ہے ۔جن کے دل کے مکان کشادہ نہیں ہیں ۔اسی طرح جب اس نے یہ شعر کہا
———-
رہتا ہوں جس زمیں پہ وہی اوڑھ لوں گا میں
جائے اماں اک اور بھی ہوتی ہے گھر کے بعد
———-
تو اس کا تجزیہ کچھ یوں کیا گیا کہ شاعر کو اپنے وطن کی مٹی سے گہری محبت یے اور وہ اس دھرتی کو اپنے گھر سے بھی زیادہ اہمیت دیتااور اس ردائے اماں میں زندگی گزارنے کاآرزو مند ہے۔
لیکن ایک روز اچانک جب آنس معین اپنے جسم کی دیوار خود ہی گرا کر جسم کے پیچھے چھپی ہوئی دیواروں کو دیکھنے کے لیے نکل کھڑا ہوا تو اس کی ساری غزلوں کے معنی بدل گئے اور سب لوگوں کو تسلیم کرنا پڑا کہ وہ اس کے اشعار کی سطح پر لکھے ہوئے مفہوم کو بھی سمجھ نہ سکے ۔وگرنہ وہ تو ایک عرصے سے کہہ رہا تھا کہ
———-
انجام پہ پہنچوں گا میں انجام سے پہلے
اب میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور
———-
تو جستجوئے سحر میں نکلے تو اس قدر احتیاط رکھنا
کہ تیری پرچھائیں تک بھی تجھ کو قدم اٹھائے ہوئے نہ دیکھے
———-
وسعتِ دریا میں گم ہو جاؤں گا
ایک بچے کی طرح سو جاؤں گا
———-
چھوٹ جائیں قیدِ شب سے رسمِ خود سوزی کے بعد
آؤ جگنو بن کے نکلیں روشنی اوڑھے ہوئے
———-
چناچہ آج میرے سامنے جو آنس معین موجود ہے وہ اس آنس معین سے بالکل مختلف ہے جس کی غزلیں ہم پر اسرارِ نہاں تو کھول دیتی تھیں لیکن اصل حقیقت کی طرف پیش قدمی میں معاونت نہیں کرتی تھیں۔
———-
یہ بھی پڑھیں : چونکا دینے والے لہجے کے شاعر آنِس معین کے ادبی سفر کی داستان
———-
مجھے اعتراف ہے کہ جواں سال آنس معین کی موت پر مجھے مصطفیٰ زیدی یاد نہیں آیا لیکن شکیب جلالی بہت یاد آیا۔وجہ یہ کہ مصطفی زیدی نے صرف باہر کی دنیا پر اپنی نظریں مرکوز کر رکھی تھیں اور وہ اسے قاش قاش کرکے اپنے اوپر نچھاور کر رہا تھا ۔شکیب جلالی اور آنس معین دونوں نے آتش فشاں اپنے اندر جلا رکھا تھا وہ دیکھ رہے تھے کہ یہ آتش فشاں انہیں لمحہ لمحہ بھسم کررہا ہے اور ان کے گردوپیش میں جو دنیا پھیلی ہوئی ہے وہ ان کے حؤصلے ،ظرف اور معیار کے مطابق نہیںتھی چنانچہ ایک مبرم خؤف دونوں کے جسم و جاں پر محیط تھااور دونوں نے ایک جیسے حالات میں اندر کے آتش فشاں میں چھلانگ لگادی ۔کم نظر لوگوں نے لکھا کہ دونوں نے خود کشی کرلی ۔شکیب جلالی نے سرگودھا میں آنس معین نے کئی سال بعد ملتان میں ۔
آنس معین کی غزل اس کی زندگی کا استعارہ ہے. آنس معین کی وفات جدید غزل کی موت ہے .اس نے مصرعےموزوں نہیں کیے بلکہ اس طوفان کی اطلاع دی ہے جو گردوپیش میں واقعات کی صورت اس کے دل پر یلغار کررہا تھا۔وہ تضادات کی زد پر تھااور اس نے قدروں کی شکست و ریخت کا منظر دیکھا اور مصلحت کے معیاروں میں تبدیلی کے واقعات مشاہدہ کیے تھےچنانچہ اس نے دہائی دی
———-
اس دور میں کچھ اور ہیں سچائی کے معیار
یہ بات الگ زہر کی تاثیر وہی ہے
———-
ہر ایک شہر کا معیار مختلف دیکھا
کہیں پہ سر،کہیں پگڑی کا احترام ہوا
———-
ان لوگوں سے جھک کر ملنا اور برا ہے
بڑے پرندوں کی نیچی پرواز سے ڈرنا
———-
جانتے ہو کس قدر خائف ہے اپنے آپ سے
سنگ جیسا آدمی جو کانچ کے اس گھر میں ہے
———-
ہاتھ میں لےکر پتھر جب میں پاس کھڑا تھا ندی کے
کانپ رہا تھا پانی پر اک چہرہ سہما سہما سا
———-
یہ خوفزدہ انسان جس کا چہرہ بھی سہما سہما نظر آتا ہے خود آنس معین ہے ۔چنانچہ اس نے اپنے اندر کی آواز بھی لوگوں کے کانوں تک پہنچانے کی کوشش کی ۔
———-
گہری سوچیں لمبے دن اور چھوٹی راتیں
وقت سے پہلے دھوپ سروں پہ آپہنچی
———-
کب بارِ تبسم مرے ہونٹوں سے اٹھے گا
یہ بوجھ بھی لگتا ہے اٹھائے گا کوئی اور
———-
میرے سر کو دیکھ کر میرے شانوں پر
شاخ نے گل کا بوجھ اٹھانا سیکھا ہے
———-
ذرا تو کم ہوئیں تنہائیاں پرندے کی
اب ایک خوف بھی اس آشیاں میں رہتا ہے
———-
بدن کی اندھی گلی تو جائے امان ٹھہری
میں اپنے اندر کی روشنی سے ڈرا ہوا ہوں
———-
ہماری مسکراہٹ پر نہ جانا
دیا تو قبر پر بھی جل رہا ہے
———-
اور یہی وہ خوف ہے جو باہر سے آکر آنس معین کے دل میں مستقل طور پر مکین ہو گیا ہےاور اپنے خونیں پنچے نکال کر اس کی رگِ جاں پر مسلسل کچوکے لگا رہا ہے ۔نئے اندیشوں کی افزائش کرتا ہے ۔آنس معین بظاہر مدافعت کر رہا ہے لیکن ایسے ہی جیسے کچا مکان بارش کے سامنے مدافعت کرتا ہےیا شبنم کی بوند سورج کی پہلی کرن سے نبرد آزما ہوتی ہے ۔
———-
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر ” آنس معین ” کا یوم ولادت
———-
آنس کی خوبی یہ ہے کہ وہ خوف کی ہر لرزش کو شعرکا پیکر عطا کردیتا اور ہر خدشے پرمہر تصدیق ثبت کر دیتا ہے۔
———-
ذرا سا کھول کے دیکھو تو گھر کا دروازہ
یہ کوئی اور ہی دستک ہے،اب ہوا کیا ہے؟
———-
درکار تحفظ ہے پر سانس بھی لینا ہے
دیوار بناؤ تو دیوار میں در رکھنا
———-
کبھی میں سورج کو دوں صدا تیرگی کے ڈر سے
کبھی یہ سوچوں برف کا ہے مکاں اپنا
———-
نہ جانے باہر بھی کتنے آسیب منتظر ہوں
ابھی میں اندر کے آدمی سے ڈرا ہوا ہوں
———-
ممکن ہے کہ صدیوں بھی نظر آئے نہ سورج
اس بار اندھیرا مرے اندر سے اٹھا ہے
———-
کیا عدالت کویہ باور میں کرا پاؤں گا
ہاتھ تھا اور کسی کا مرے دستانے میں
———-
میرا خیال ہے کہ باہر کے اس خوف نے ہی آنس کو اپنے اندر کی دنیا میں پناہ لینےپر مجبور کردیا۔چنانچہ کبھی وہ باہر کی کھڑکی کو بند دیکھتا ہے ۔کبھی اپنی پلکوں کی اوٹ میں چھپ جاتا ہے اور کبھی چپکے چوری اس دنیا سے ہی نکل جانے کی آرزو کرتا ہے۔
———-
اندر کی دنیا سے ربط بڑھاؤ آنسؔ
باہر کھلنے والی کھڑکی بند پڑی ہے
———-
کاش قدموں کی چاپ نے آنسؔ
سونی گلیوں سے کچھ کہا ہوتا
———-
تیرگی من میں نہ در آئے کہیں
آنکھ شب کے درمیاں نہ کھولنا
———-
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آنس نے اندر کی دنیا میں چلے جانے کے بعد باہر کی دنیا کی ویرانی کا منظر بھی دیکھ لیاتھا۔چنانچہ اس کی غزل میں ایسے اشعار جا بہ جا ملتے ہیں جن میں وہ اندر کی دنیا سے باہر کی دنیا کو صدا دے رہا ہے اور ہمیں اس تجربے سے آشنا کر رہا ہے جو اس نے وجود سے عدم میں اس دنیا سے اُس دنیا میں چھلانگ لگا کر کیا ہے ۔
———-
ان کے لیے جو لوٹ کے آئیں گے نہ انسؔ
کیا جاگتی گلیوں کے سوا اور بھی کچھ ہے
———-
نہ تھی زمین میں وسعت مری نظر جیسی
بدن تھکا بھی نہیں اور سفر تمام ہوا
———-
یہ بھی پڑھیں : آنس معین ، آنے والی صد ی کا توانا شاعر
———-
یاد ہے آنسؔ پہلے تم خود بکھرے تھے
آئینے نے تم سے بکھرنا سیکھا تھا
———-
نظر کو خوب خبر تھی کہ اک سراب ہے وہ
مگر نظر کو بھروسہ اسی سراب پہ تھا
———-
گونجتا ہے بدن میں سناٹا
کوئی خالی مکان ہو جیسے
———-
دامن بھی دریدہ ہے مرا ہاتھ بھی زخمی
شاخوں پہ گلابوں کے سوا اور بھی کچھ ہے
———-
میں اپنی ذات کی تنہائی میں مقید تھا
پھر اس چٹان میں اک پھول نے شگاف کیا
———-
بلے صاحب نے آنس کی وفات کے بعد دوستوں کو بتایا کہ ایک محفل میں ان کے ایک صوفی دوست نے کہا تھا ”اگر لوگوں کو دوسری دنیا کے حسن و جمال اور خوبصورتی کی خبر ہوجائے تو شاید آدھے سے زیادہ انسان خود کشی کر لیں “۔۔۔۔آنسؔ شاید اس خوبصورت دنیا کو دیکھنے کے لیے تضادات کے اس جہان کو چھوڑنے پر آمادہ ہو گیا اور جاتے جاتے کہہ گیا
———-
بکھر کے پھول فضاؤں میں باس چھوڑ گیا
تمام رنگ یہیں آس پاس چھوڑ گیا
———-
ہے میرے اندر بسی ہوئی ایک اور دنیا
مگر کبھی تم نے اتنا لمبا سفر کیاہے
———-
واقعی میں نے اتنا لمبا سفر نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔اس لیے یہ اسرار مجھ پر کیوں کر کھل سکتا ہے؟
———-
آنِس معین غزل کا بلند قامت اور توانا شاعر
تنقید نگار: ڈاکٹر انور سدید
———-
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ