اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

آنکھوں میں ہوں سراب تو کیا کیا دکھائی دے

آنکھوں میں ہوں سراب تو کیا کیا دکھائی دے

پانی کے درمیان بھی صحرا دکھائی دے

 

بینائی رکھ کے دیکھ مری، اپنی آنکھ میں

شاید تجھے بھی درد کی دنیا دکھائی دے

 

دنیا نہیں نمائشِ میکانیات ہے

ہر آدمی مشین کا پرزہ دکھائی دے

 

آدم غبارِ وقت میں شاید بکھر گیا

حوّا زمینِ رزق پہ تنہا دکھائی دے

 

ق

 

جس انقلابِ نور کا چرچا ہے شہر میں

مجھ کو تو وہ بھی رات کا حربہ دکھائی دے

 

نکلو تو ہر گلی میں اندھیرے کا راج ہے

دیکھو تو کچھ گھروں میں اُجالا دکھائی دے

 

شطرنج ہے سیاست دوراں کا کھیل بھی

حاکم بھی اپنے تخت پہ مہرہ دکھائی دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رائیگاں شعر مرے ، نوحہِ نمناک عبث
آلودۂ عصیاں خود کہ ہے دل، وہ مانعِ عصیاں کیا ہو گا
سنہرے خواب کی لازم نہیں اچھی ہوں تعبیریں
جنونِ تعمیرِ آشیاں میں نگاہ ڈالی تھی طائرانہ
بے خود ہوا ہوں خود بھی مئے لالہ فام سے
دنیائے عمل میں اے غافل! سو جانے میں سب کچھ کھونا ہے
ہزار چھوڑ کے نقش و نگار گزری ہے
اب کے لبوں پہ زرد ، تو آنکھوں میں لال بھر
پسے ہیں دل زیادہ تر حنا سے
محبتوں کے نئے زاویے دکھا رہے تھے