اردوئے معلیٰ

آنکھ گنبد پہ جب جمی ہو گی

دل کی دنیا بدل گئی ہو گی

 

لب پہ ڈالی درود کی رکھنا

جب مدینہ روانگی ہو گی

 

لو لگاؤ گے جب مدینے سے

رشک مہتاب زندگی ہو گی

 

جامِ کوثر ہی پینے کی خاطر

دَورِ محشر میں تشنگی ہو گی

 

جو مرا بغض مصطفیٰ لے کر

رد سبھی اس کی بندگی ہو گی

 

رب اکبر کے حکم سے اک دن

پھر وہیں پر وہ بابری ہو گی

 

خواب میں آئیں گے شہِ بطحا

عشق کی آگ جب لگی ہو گی

 

جائے گا سوئے طیبہ شمسی بھی

جب اجازت حُضور کی ہو گی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات