آنکھ گنبد پہ جب جمی ہوگی

آنکھ گنبد پہ جب جمی ہو گی

دل کی دنیا بدل گئی ہو گی

 

لب پہ ڈالی درود کی رکھنا

جب مدینہ روانگی ہو گی

 

لو لگاؤ گے جب مدینے سے

رشک مہتاب زندگی ہو گی

 

جامِ کوثر ہی پینے کی خاطر

دَورِ محشر میں تشنگی ہو گی

 

جو مرا بغض مصطفیٰ لے کر

رد سبھی اس کی بندگی ہو گی

 

رب اکبر کے حکم سے اک دن

پھر وہیں پر وہ بابری ہو گی

 

خواب میں آئیں گے شہِ بطحا

عشق کی آگ جب لگی ہو گی

 

جائے گا سوئے طیبہ شمسی بھی

جب اجازت حُضور کی ہو گی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

محبت کیجیے ربّ العلیٰ سے
تصوّر آپؐ کا میں نے دِل و جاں میں اُتارا ہے
متاعِ زیست کا ہر پل سعید کرتا ہُوں
محبوبِ ربِّ انس و جاں میرے حضورؐ ہیں
جب شعر ہُوا اسمِ محمد سے مُرصّع
چراغِ عقیدت کو دل میں جلا کر
بوسۂ نُور کی تخلید ہے، سنگِ اسوَد
مر بھی جائے تو تری بات سے جی اُٹھتا ہے
مقصودِ دعا قلب پہ ظاہر ہوا جب سے
ہوجائے میری حاضری طیبہ نصیب سے