اردوئے معلیٰ

Search

 

آنے والو یہ بناوؔ شہرِ مدینہ کیسا ہے

سر انُ کے قدموں میں رکھ کر جھک کر جینا کیسا ہے

 

گنبدِ خضریٰ کے سائے میں بیٹھ کر تم تو آئے ہو

اس سائے میں رب کے آگے سجدہ کرنا کیسا ہے

 

دل آنکھیں اور روح تمہاری لگتی ہیں سیراب مجھے

ان کے در پہ بیٹھ کے آبِ زمزم پینا کیسا ہے

 

دیوانو! آنکھوں سے تمہاری اتنا پوچھ تو لینے دو

وقتِ دعا روضے پہ انُ کے آنسو بہانا کیسا ہے

 

اے جنت کے حقدارو، مجھ منگتے کو یہ بتلاوؔ

انُ کی سخا سے دامن کو بھر کر آنا کیسا ہے

 

لگ جاوؔ سینے سے میرے طیبہ سے تم آئے ہو

یہ بتلاوؔ عشرت ان کے گھر سے بچھڑنا کیسا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ