آنے والو یہ بناوؔ شہرِ مدینہ کیسا ہے

 

آنے والو یہ بناوؔ شہرِ مدینہ کیسا ہے

سر انُ کے قدموں میں رکھ کر جھک کر جینا کیسا ہے

 

گنبدِ خضریٰ کے سائے میں بیٹھ کر تم تو آئے ہو

اس سائے میں رب کے آگے سجدہ کرنا کیسا ہے

 

دل آنکھیں اور روح تمہاری لگتی ہیں سیراب مجھے

ان کے در پہ بیٹھ کے آبِ زمزم پینا کیسا ہے

 

دیوانو! آنکھوں سے تمہاری اتنا پوچھ تو لینے دو

وقتِ دعا روضے پہ انُ کے آنسو بہانا کیسا ہے

 

اے جنت کے حقدارو، مجھ منگتے کو یہ بتلاوؔ

انُ کی سخا سے دامن کو بھر کر آنا کیسا ہے

 

لگ جاوؔ سینے سے میرے طیبہ سے تم آئے ہو

یہ بتلاوؔ عشرت ان کے گھر سے بچھڑنا کیسا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میری جانب بھی ہو اک نگاہِ کرم، اے شفیع الواریٰ، خاتم الانبیاء
کبھی کبھی یہ نظارہ بچشم تر آیا
اللہ ہو گر اُس کا ثنا گر ، نعت کہوں میں کیسے
لب پہ صلِ علیٰ کے ترانے اشک آنکھوں میں آئے ہوئے ہیں
منتظر تیرے سدا عقدہ کُشا رکھتے ہیں
شمع دیں کی کیسے ہو سکتی ہے مدہم روشنی
یاد
اک عالمگیر نظام
دل میں رہتے ہیں سدا میرے نبی​
ہیں سر پہ مرے احمدؐ مشکل کشا کے ہاتھ