اردوئے معلیٰ

 آپ کی کملی کے کیا کہنے رسولِ محترمکملی کے حوالے سے ایک منفرد اور انتہائی خوبصورت نعت
———-
یہ چند الفاظ سنتے ہی قصیدہ ء بردہ شریف کانوں میں رس گھولنے لگتاہے۔ عاشق رسول مقبول حضرت امام محمد شرف الدین بوصیری رحمۃ اللہ علیہ نے صدیوں پہلے یہ نعتیہ قصیدہ تخلیق کیا تھا اورعالم رویامیں انہیں نبی ء رحمت کےحضور یہ قصیدہ پیش کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی ۔
نبی ء رحمت اسے سن کر جھوم اٹھے تھےاور محض داد نہیں دی بلکہ اپنابردہ شریف بھی اپنے عاشق کو بطور انعام عطافرمادیا تھا۔ اسی مناسبت سے اسے”قصیدہ بردہ شریف” کانام مل گیا۔ امام شرف الدین بوصیری رحمۃ اللہ علیہ سلسلہ عالیہ شاذلیہ میں شرف ِ بیعت سے مشرف ہوئے تھے۔
اب خانوادہء چشت کے فرزند ِ ارجمند اورقادرالکلام شاعر سید عارف معین بلے نے اسی قصیدہء بردہ شریف کی زمین میں فکروخیال کے گلاب کھلائے ہیں ۔انہوں نے قصیدہء بردہ شریف کامنظوم اردو ترجمہ کرنے کے بعد قصیدہء بردہ شریف کاقصیدہ بھی منظوم لکھاہے ۔
” مرحبا، حسن ِ سراپائے رسول محترم ” کوعنوان بناکر حضور نبی ء کریم کے نین نقش اور خدو خال کی بھی تصویر کشی کی ہے۔یہ تمام شاہکار ادبی تخلیقات ہم نے اردوئے معلیٰ کےقارئین کرام کی نذرکرنے کاایک سلسلہ شروع کررکھا ہے ۔ اسی سلسلےکی یہ نئی کڑی ہے ۔ جس میں قصیدہء بردہ شریف کی زمین میں سید عارف معین بلے نےحضورعلیہ الصلواۃ و واسلام کی "کملی شریف "کو اپنی نعت کاموضوع بنایا ہے۔
کملی کے حوالے سے اس سے پہلے بالالتزام نعتیں اردو میں نہیں ملتیں ۔ البتہ شاعروں نے اپنی نعتوں میں کہیں کہیں کملی کا ذکر ضرور کیا ہے۔
سید عارف معین بلے کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے تمام اشعار ہی کملی کے حوالے سے تخلیق کئے ہیں اور نبیء پاک کی چادرمبارک ، چادر ِ تطہیر،ردائے پاک اور کملی شریف سے جڑے اہم تاریخی واقعات کے تلمیحی اشاروں سے اپنی اس نعت کو مزیّن کیا ہے۔
سیدعارف معین بلے کو حضور نبیء کریم کی کملی کہیں غلاف ِ بیت اللہ شریف نظرآتی ہے اور کہیں وہ اسے لوائے حمد کی صورت میں دیکھتے ہیں ۔
کہیں رسول ِ رحمت کے سرمبارک پر بندھی دیکھیں تو دستار دکھائی دیتی ہے اور اگر یہ چادر فضاؤں میں کھلے تو سیدعارف معین بلے اسے بے ساختہ علم یا پرچم کہنے پر مجبور نظر آتے ہیں ۔
———-
یہ بھی پڑھیں : قصیدۂ بردہ شریف کا قصیدہ
———-
ایسی خوبصورت نعتیں اردو ادب میں یقیناً قابل ِ قدر اضافہ ہیں ۔آپ بھِی پڑھئے اور سردُھنیے ۔
ہم سید عارف معین بلے کے نعتیہ کلام کی اشاعت کا سلسلہ اردوئے معلیٰ کے قارئین کرام کے لئے آئندہ بھی جاری رکھیں گے۔

 

آبروئے دو جہاں ہیں آپ مکّہ کی قسم

آپ کی کملی ہے مولا پردۂ بیت الحرم

 

کملی کیا ہے؟ کیا لکھوں فرمائیے شاہِ اُمم

دِل میں جذبے موج زَن ہیں ، سر بسجدہ ہے قلم

 

چادرِ تطہیر ہے یہ مولا کملی آپ کی

دُھوپ میں ہم پر بھی مولا اپنا دامانِ کرم

 

اِک لقَب کی اور خلعت آپ کو کر دی عطا

رَب نے جب دیکھا مِرے مولا کے پیروں پر وَرم

 

پیار آیا ہے خدا کو اُوڑھنی پر آپ کی

المدثر آپ کہلائے رسولِ محترم

 

اوڑھی کملی تو مزمل کہہ دیا ہے آپ کو

ہر ادا پر ہے خدا کی بارشِ لطف و کرم

 

کملی کیا ہے ؟ چادرِ تطہیر ہے سرکار کی

سچ اگر پوچھو تو ہے پوشاکِ سردارِ اُمم

 

یادیں بھی اس سے ہیں وابستہ رسولِ پاک کی

المزمل کا لقب ہو ، یا ہو پیروں پر وَرَم

 

اِس کی ہے تقدیر میں مولا رفاقت آپ کی

رزم ہو یا بزم ،بردوشِ رسولِ محتشم

 

یہ تہجد میں بھی مولا آپ کے ہے ساتھ ساتھ

یہ تقدّس کی علامت ہے نبیٔ محترم

 

کیا کہوں ؟ یہ ہے نشانِ رحمتِ پروردِگار

آبروئے دوجہاں ، پوشاکِ سلطانِ اُمم

 

اِس کو شانے پر بھی رکھ کر بخشی زینت آپ نے

اعلیٰ ہیں درجات اس کے رب العزت کی قسم

 

اِس کو سینے سے لگایا، سَر چڑھایا آپ نے

آپ نے اس کے اُٹھائے ہیں بڑے ناز و نِعَم

 

اُجلی اُجلی چاندنی ہے ، پنجتن کی اوڑھنی

جسم پر ہو تو کِسا ، اُٹھّے فضا میں تو عَلَم

 

کیا کہوں میں آپ سے ،اہلِ کسا سے پوچھئے

پنجتن کی اوڑھنی بے شک ہے دامانِ کرم

 

اس نے چُوما جسمِ اطہر سرورِ کونین کا

خوشبوئے لمسِ رسالت ہو گئی ہے اس میں ضَم

 

اس پہ ہیں قربان اس دُنیا کے سب شاہی لباس

آیہء رحمت ہے ، اس کی سادگی میں بھی حَشَم

 

چُوما ہے سرکارِ دوعالم کا اس نے اََنگ اَنگ

دُنیا کا جو بھی بڑا اعزاز ہو، اِس سے ہے کم

 

بڑھ گئی ہے یوں بھی اس کی اور قدر و منزلت

بَس گئی ہے اس میں خوشبوئے رسولِ محترم

 

سچ اگر پوچھو تو یہ سردار پہناووں کی ہے

ہم سفر مولا کی ہے ، معراج میں بھی ہم قَدَم

 

مرحبا، صلِّ علیٰ اس کی رسائی عرش تک

سر چڑھا کر اس کو رکھتے تھے نبیِٔ مختتم

 

یہ رہی دوشِ رسولِ پاک پر اکثر سوار

ہو نہیں سکتی سواری اس سے بڑھ کر محتشم

 

یہ ہے برکات و تجلیات کی بے شک امیں

اس کو اکثر اوڑھتے تھے صاحب خیرالامُم

 

رنگ اس پر چڑھ گیا ہے سرورِ کونین کا

رب نے خود صلِ علیٰ پڑھ کر کیا ہے ،اس پہ دَم

 

سچے موتی اس کے ہر اِک تار میں انوار کے

کہتی ہیں نورانی مخلوقات صدقے جائیں ہم

 

روشنی اور سر بلندی طرہّء صد امتیاز

آسماں سورج ،ستارے چاند اس چادر میں ضَم

 

جذب ہے اس میں پسینہ میرے مولا آپ کا

بزمِ دو عالم معطّر ہو گئی ہے ایک دَم

 

مولا واری حضرتِ یوسف کا اس پہ پیرہن

جاہ اس میں آپ کی ،بوالانبیاء کا ہے حَشَم

 

رحمت للعالمیں کی رحمتوں کا یہ نشاں

اس کی صورت سایۂ رحمت بھی پہنچایا بہم

 

اس میں ہیں دنیا و دیں کی وسعتیں سمٹی ہوئی

ہیں زمیں پر بھی لوائے حمد کے سائے میں ہم

 

یہ علامت ہے یقیناً عزت و ناموس کی

دیدنی ہے حُسنِ دستارِ رسولِ محترم

 

آپ کی رحمت کی چادر پوری دُنیا پر محیط

عرش کیا ؟ یہ فرش کیا؟ ہے کیا عرب اور کیا عجم

 

اس کے تو اِک تار کی قیمت چکا سکتے نہیں

دنیا بھر کے پونڈ ، یورو ہوں یا دینار و دِرَم

 

سنگِ اسود اس میں رکھ کر نصب فرمایا گیا

اس کی ہے بنیاد پر تاریخِ اسلامی رقم

 

ہے یہی ہجرت کی شب بستر رسول اللہ کا

مرحبا ہیں جلوہ آرا ، جس پہ مولودِ حرم

 

چاندنی اپنی بچھا دی آپ کے اعزاز میں

مادرِ آلِ نبی بنتِ رسولِ محترم

 

مانگا کرتے تھے دُعا رو رو کے اُمت کے لئے

اس لئے رہتی تھی اکثر آپ کی چادر بھی نَم

 

دُنیا بھر کے قیمتی سب پیرہن اس پر نثار

دولتِ ہر دو جہاں ہے، آپ کی چادر سے کم

 

جسمِ اطہر پر رِدا، ہو سر پہ تو دستار ہے

یہ لوائے حمد ہے مولا شفاعت کا عَلَم

 

داستانیں اَن گنت وابستہ اس چادر سے ہیں

پَر کریں کیا ؟ لکھنے سے قاصر ہے جب اپنا قَلَم

 

زخم بھی کھائے، لہو ٹپکا ، ہیں دونوں سرخ رو

ہم سفر طائف میں چادر ، مشکلوں میں ہم قدم

 

جب لُٹا مالِ غنیمت آپ فرمانے لگے

میری چادر کر دو واپس ، یہ نہیں مالِ غَنَم

 

قید کر کے حضرتِ شیما کو جب لایا گیا

آپ نے چادر بچھا دی اپنی از راہِ کرم

 

زَمِّ لونی ، زَمِّ لونی ہے زباں پر آپ کی

جب حرا سے واپسی پر گھر میں رکھا ہے قدم

 

دفعتاً خاتونِ اوّل نے اوڑھا دی ہے رِدا

کپکپاتا دیکھ کر جسمِ رسولِ محترم

 

زندگی کے سب اندھیرے دور تو ہونے ہی تھے

چاندنی کو اوڑھ کر نکلے ہیں ہادیٔ اُمم

 

گِڑگِڑا کر جب دُعا کرتے ڈھلک جاتی رِدا

پھر اوڑھا دیتے تھے اصحابِ نبیٔ محتشم

 

بدر کے غزوے سے پہلے بار ہا ایسا ہوا

مستند ہے واقعہ ، تاریخ میں بھی ہے رقم

 

عصمت و عفّت کا آئینہ ہے ورثہ آپ کا

چادرِ زھرا و زینب کے تقدّس کی قسم

 

معنویت کا جہاں قرآں کی ہر آیت میں ہے

بندگی کے ساتھ ہے ذِکرِ عبائے محترم

 

نعت سُن کر کعب کو بُردہ عطا فرمادیا

میرے مولا کا رہا ہے نعت خوانوں پر کرم

 

حضرتِ بوصیری کو بخشا ہے بُردہ آپ نے

کیا ثنا خوانِ رسالت کا ہے یہ اعزاز کم

 

ہو کے خوش ،دامانِ رحمت مرحمت فرما دیا

آپ کی چادر ہے اِک انعامِ قاسمِ نِعَم

 

دین و دُنیا کا جمال و حُسن اس گُدڑی میں ہے

آپ کے خِرقے میں عرش و کرسی و لوح و قلم

 

تھی وصیّت خرقہ دے آنا اویسِ پاک کو

ہوگئی تعمیلِ ارشادِ رسولِ ذی حَشَم

 

مانگ لی چادر صحابی نے ، جو نکلے اوڑھ کر

بخش دی انکار کب کرتے تھے سرکارِ اُمم

 

کچھ صحابہ کا کفن بھی آپ کی اُترن بنی

خوش نصیبی ہے یہ زادِ راہیٔ ملکِ عدم

 

موٹا سا تہہ بند ہے ، چادر میں بھی پیوند ہے

دیکھئے ، وقتِ وصالِ صاحبِ خیر الاُمم

 

پورا شہرِ علم و حکمت اس میں ہے لپٹا ہوا

یہ ہے احرامِ رسولِ پاک، ناموسِ حرم

 

چادرِ رحمت کی کوئی حد نہ سرحد ہے کوئی

سچ ہے یہ ارض و سما کی وسعتیں ہیں اس سے کم

 

مولا کملی آپ کی جزدان ہے قرآن کا

آپ کی کملی غلاف و غُرفہء بیت الحرم

 

دھوپ یہ مولا قیامت کی نہ جھلسا دے کہیں

دو جہاں میں مرحمت فرمائیں دامانِ کرم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات