اردوئے معلیٰ

آہستگی سے شیشہِ دل پر خرام کر

آہستگی سے شیشہِ دل پر خرام کر

میرا نہیں تو عشق کا ہی احترام کر

 

ہے ماوراء بیاں سے مرا آٹھواں سفر

ائے داستان گو ، مرا قصہ تمام کر

 

میں تو اٹک کے رہ گیا نصف النہار پر

گردش زمین کی ہی بڑھا اور شام کر

 

رشکِ مطالعہ ، مجھے بین السطور پڑھ

ائے نازِ گفتگو ، مری چپ سے کلام کر

 

میں آسماں بدوش کھڑا ہوں ترے لیے

دھرتی پہ لوٹ جا مرے دامن کو تھام کر

 

لایا ہوں خام عہد میں خالص اُداسیاں

آ ، ائے عروسِ شعر ، مرا فیض عام کر

 

درکار ہے جہاں میں گزارے کا حوصلہ

میں نے یہ کب کہا کہ جہاں میرے نام کر

 

اس شہرِ سنگ و ریگ میں ممکن کہاں نمو

ائے دردِ بارور ، مرے دل میں قیام کر

 

شاخِ گلوئے خواب تو لہجے نے کاٹ دی

عریاں بدن کی تیغ کو چاہے نیام کر

 

مہماں ہوں ایک پل کا بھلے ، کارواں سراء

اب آ کھڑا ہوا ہوں تو کچھ اہتمام کر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ