اردوئے معلیٰ

آ کر قریب دیکھو نظاروں کے آس پاس

پت جھڑ چھپے ہیں کتنے بہاروں کے آس پاس

 

اب تک بھٹک رہے ہیں سرابوں کے بیچ میں

منزل کے پُر فریب اشاروں کے آس پاس

 

مایوسی اُگ رہی ہے جھلستی زمین پر

آکاش چھونے والے چناروں کے آس پاس

 

دریا ہنر کے ریگِ ضرورت میں کھو گئے

صحرا کھڑے ہیں پیاسے کناروں کے آس پاس

 

پانی ہمارے دیس کا بے فیض ہو گیا

سبزہ جلا ہوا ہے پھواروں کے آس پاس

 

پاتال مفلسی کے ترستے ہیں دھوپ کو

اونچی حویلیوں کی قطاروں کے آس پاس

 

سوتی ہے بے گھری ابھی خیمے میں رات کے

بھوکا بدن بچھا کے دواروں کے آس پاس

 

چنگاریوں کے جگنو پکڑنے چلے ہیں دوست

ریشم کا جال لے کے شراروں کے آس پاس

 

دنیا سمجھ رہی ہے جسے کہکشاں ظہیرؔ

تاریکیوں کے گھر ہیں ستاروں کے آس پاس

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات