اردوئے معلیٰ

ائے شہرِ طلسمات بتا ہاتھ میں کیا ہے

ویسے تو مرا درد مجھے ہوش ربا ہے

 

گزری ہے کبھی عمر فقط چشم زدن میں

یا یوں کہ کبھی سانس بھی سالوں میں لیا ہے

 

بے عیب جراحت کے محاسن پہ نظر کر

ائے چشمِ لہو پوش ترے کرب کا کیا ہے

 

جاتا ہوا وہ تو ہے سرِ منظرِ شب ، اور

وہ میں ہوں کہ جو موڑ پہ خاموش کھڑا ہے

 

اک وقت میں تھا وقت ، مرے دستِ رسا میں

وہ وقت مری جان مگر بیت چکا ہے

 

اک محملِ امید کہ اڑتا ہے ہوا میں

اک وحشتِ کم بخت ہے جو آبلہ پا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات