اردوئے معلیٰ

ابتداء حضور ہیں انتہا حضور ہیں

ابتداء حضور ہیں انتہا حضور ہیں

مقتدی ہیں انبیا مقتدأ حضور ہیں

 

پوری آب و تاب سے ساری کائنات میں

جو کرے ہے روشنی وہ دیا حضور ہیں

 

باقی سب فریب ہے اور سارا جھوٹ ہے

زندگی گزارنے کا ضابطہ حضور ہیں

 

جب نہ تھے ملائکہ اور نہ کائنات تھی

حرفِ کُن سے قبل کا واقعہ حضور ہیں

 

اُن کے دم سے رحمتیں عام ہیں جہان میں

رب کی رحمتوں کا ایک سلسلہ حضور ہیں

 

آصفِ حزیں نہ ڈر اُن پہ تو یقین کر

عاصیوں کا حشر میں آسرا حضور ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ