اردوئے معلیٰ

ابھی کلیوں میں چٹک ، گُل میں مہک باقی ہے

ابھی کلیوں میں چٹک ، گُل میں مہک باقی ہے

دل میں رونق ، ابھی آنکھوں میں چمک باقی ہے

 

اے ستم گر ترا بازو نہ ٹھہرنے پائے

جب تلک جسم میں جاں ، جاں میں کسک باقی ہے

 

اور ہر شے جو دمکتی تھی مٹا دی تو نے

دل سے اٹھتے ہوئے شعلوں کی لپک باقی ہے

 

اور کچھ دیر ترے دور کا چرچا ہو گا

اے فسوں گر ، کوئی ایذا ، کوئی زک باقی ہے

 

ظلم گھنگھور سہی ، وہ بڑے شہہ زور سہی

ابھی دیوانوں میں مستانہ لپک باقی ہے

 

پھر رہے ہیں سرِ بازار تماشا بن کر

بدگمانی تری ظالم ابھی تک باقی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ