اب اُس کی آرزو میں نہ رہیئے تمام عمر

اب اُس کی آرزو میں نہ رہیئے تمام عمر

یعنی کہ یہ عذاب نہ سہیئے تمام عمر

 

آخر اُتر پڑے تھے پہاڑوں سے کس لیئے

اب دشتِ بے امان میں بہیئے تمام عمر

 

وہ سرسری سی بات اداء جب نہیں ہوئی

ایسی غزل ہوئی ہے کہ کہیئے تمام عمر

 

وہ جا چکا ہے جس کو نہ جانا تھا عمر بھر

اب آپ اپنے زعم میں رہیئے تمام عمر

 

آخر جنوں کے رتھ کے تلے سے نکل گئے

ہم کو کچل رہے تھے جو پہیئے تمام عمر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ