اردوئے معلیٰ

اب اپنی ذندگی اور فن کا مقصد لکھ رہا ہوں میں

اب اپنی ذندگی اور فن کا مقصد لکھ رہا ہوں میں

بہ صد عجز و عقیدت نعتِ احمد لکھ رہا ہوں میں

 

خدا کے فضل سے اب کارِ مدحت مجھ پہ آساں ہے

زہے تقدیر! اوصافِ محمد لکھ رہا ہوں میں

 

خوشا! اظہارِ نسبت کا مرا اپنا طریقہ ہے

تمہارا ذکر کرتے تھے اب وجد، لکھ رہا ہوں میں

 

طبیعت کی روانی مصطفیٰ کی خاص رحمت ہے

نہیں رکتی کسی موسم میں آمد، لکھ رہا ہوں میں

 

کرم دیکھو کہ آنکھیں دیکھتی ہیں سبز گنبد کو

عطا دیکھو کہ دل پر اسم احمد لکھ رہا ہوں میں

 

اجازت مل گئی ہے مجھ کو اخترؔ نعت لکھنے کی

ہوا مجھ بے نوا پر لطف بے حد، لکھ رہا ہوں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ