اتنا ہی میرا کام تھا ، بستی سے جاؤں میں

اتنا ہی میرا کام تھا ، بستی سے جاؤں میں

کوئی سنے تو آخری قصہ سناؤں میں

 

دریا عبور کرنے کو چھاؤں اجاڑ دوں

پاگل ہوں ؟ پیڑ کاٹ کے ناؤ بناؤں میں

 

اے گریہ زار زندگی کچھ دیر معذرت

میرا بھی دل کیا ہے ، ذرا مسکراؤں میں

 

رکھ لے کسی کباڑ کے مانند اپنے پاس

شاید برے دنوں میں تیرے کام آؤں میں

 

ترک تعلقات ترا مشغلہ ہے اور

تجھ جیسے شخص کے لئے آنسو بہاؤں میں ؟

 

مر جائے ، جان چھوڑ دے اچھے دنوں کی یاد

رکھنے لگی ہوں یاد کی گردن پہ پاؤں میں

 

یہ لوگ چاہتے ہیں مری عمر ہو قلیل

یہ لوگ چاہتے ہیں تجھے بھول جاؤں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مدت کے بعد منہ سے لگی ہے جو چھوٹ کر
ادھر آ کر شکار افگن ہمارا
مرے لیے بھی رعایت تو ہو نہیں سکتی
اُٹھو یہ دامنِ دل و دیدہ سمیٹ کر
سخن کے نام پہ شہرت کمانے والے لوگ
باشندے حقیقت میں ہیں ہم ملک بقا کے
وہ جو اک شخص مجھے طعنہء جاں دیتا ہے
آپ کو اچھا لگا ہے ؟ بے تحاشا کیجئے
آخری حد پہ اک جنون کے ساتھ
زرد چہرہ ہے ، مرا زرد بھی ایسا ویسا

اشتہارات