اتنے مُختلف کیوں ھیں فیصلوں کے پیمانے ؟

اتنے مُختلف کیوں ھیں فیصلوں کے پیمانے ؟

ھم کریں تو دھشت گرد ! تُم کرو تو دیوانے

 

تُم تو خون کی ھولی کھیل کر بھی ھو معصُوم

قتل بھی کیے تُم نے، جُرم بھی نہیں مانے

 

اس لیے بنایا ھے گھر کے پاس قبرستان

روز جانا پڑتا ھے کتنی لاشیں دفنانے

 

ایک قتل کرتا ھے، ایک قتل ھوتا ھے

واقعہ بس اتنا ھے، باقی سب خُدا جانے

 

ایک دن تو آئیں گے سب کے سامنے فارس

ظلم کے سبھی قِصّے، صبر کے سب افسانے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مجھ کو شکستِ دل کا مزا یاد آگیا
کیوں ترے ساتھ رھیں عُمر بسر ھونے تک ؟؟
میں جم سے آ رہا ہوں آستیں چڑھی ہوئی ہے
بزورِ تیرو تُفنگ کر لو
الفاظ ڈُھونڈتا ہے مِرے حسب حال کیا؟
نہیں ہے اپنی تباہی کا کچھ ملال مجھے
اکڑتا پھرتا ہوں میں جو سارے جہاں کے آگے
دشت ِ قضاء میں خاک اُڑاتی حیات کی
صد چاک ہی دامان و گریبان بھلے ہیں
اب کہاں دستِ حنائی ہے کہ جو رنگ بھرے

اشتہارات