اردوئے معلیٰ

احسان الہٰی ظہیر کا یوم وفات

آج معروف عالم دین احسان الہٰی ظہیر کا یوم وفات ہے

علامہ احسان الہٰی ظہیر رحمہ اللہ (ولادت: 31 مئی 1945ء – وفات: 30 مارچ 1987ء)
——
احسان الہٰی ظہیر بن حاجی ظہور الہی ظہیر 31 مئی 1941 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔
ابتدائی تعلیم حفظِ قرآن سے لے کردرسِ نظامیہ اور عالم فاضل تک جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ اور جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے حاصل کیں۔
اعلیٰ تعلیم کے لیے اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ تشریف لے گئے، سن 1969 میں ممتاز ڈویژن سے پاس ہوکر وطن آ گئے اورجامعہ پنجاب سے چھ مضامین میں ایم اے کیا یعنی عربی،اردو،فارسی،فلسفۂ تاریخ،ایم او ایل(قانون)اور اسلامیات۔ ۔۔ تمام امتحانات میں اچھے نمبرات سے کامیابی حاصل کی،آپ کئی زبانوں میں یکساں مہارت رکھتے تھے.
——
علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ ایک عظیم شخصیت از انس علی
——
علامہ احسان الہٰی ظہیر رحمہ اللہ کی شہادت کو اگرچہ کئی سال گزر گئے ہیں لیکن یادوں کے جھروکوں سے وہ بھلائے نہیں بھولتے۔ خاص طور پر مارچ کا مہینہ جب آتاہے اور پھر 30 مارچ کے دن انکی بھولی بسری یادیں تازہ ہوجاتی ہیں بس ایسے لگتاہے کہ
——
کہے دیتی ہے شوخی نقش پاکی
ابھی اس راہ سے گیا ہے کوئی
——
آج 32 سال گزر جانے کے بعد بھی احسان الہٰی ظہیر صاحب کی حسین یادیں زندہ ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ موت ان کے اعلیٰ مقام کو ختم نہیں کر سکی۔
جسم کے مٹ جانے سے جن لوگوں کی یادیں بھی ختم ہوجائیں تو سمجھو کہ وہ کھوکھلے لوگ تھے۔اس دنیا کے اسٹیج پر کوئی ان کا کردار نہ تھا۔ علامہ صاحب سیالکوٹ کے اس مردم خیز خطہ سے تعلق رکھتے تھے جس کی زمین تاریخی اعتبار سے ایک مردم خیز خطہ ہے ہر دور میں سرزمین سیالکوٹ سے علماء، خطباء، ادباء، شعراء، مصنفین، مؤلفین،متکلمین مردان کار اور نابغائے عصر شخصیتیں اٹھتی رہی ہیں ۔سرزمین سیالکوٹ کی عبقریت ہمیشہ مسلم رہی ہے۔سیالکوٹ کی عظمت کے لیے اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہوسکتاہے کہ عبقری زماں، نابغۂ عصر شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر مرحوم اسی مادری گیتی سیالکوٹ کے وہ مایہ ناز سپوت تھے کہ جن کی تخلیق ووجود کے لیے لیل ونہار ہزاروں نہیں ، لاکھوں گردشیں کرتے ہیں اور ہزاروں سال آسمان جن کے وجود کے لیے مضطرب وبےقرار رہتاہے ۔ بجا فرمایا شاعر مشرق علامہ اقبال نے
——
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتاہے چمن میں دیدہ وار پیدا
——
احسان الہٰی ظہیر شہید کی کونسی عظمت کا ذکر کیا جائے وہ ہمہ اوصاف قسم کے غیر معمولی انسان تھے۔ علماء میںایک ثقہ عالم دین، خطیبوں میں بلند پایہ خطیب، ادیبوں میں نامور ادیب،سیاست دانوں میں ایک منجھے ہوئے سیاستدان، قائدین اور راہنماؤں میں ایک مدبر قائد ومفکر جیسی گوناگوں صفات سے پہچانے جاتے تھے۔ ملک کا کونسا چھوٹا بڑا شہر ہے جو ان کی شعلہ نوا خطابت سے نہ گونج گیا ہو بلکہ یورپ اورمشرق وسطیٰ کے بیشتر ملکوں میں ان کی خطابت کے ڈنکے بجتے رہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : پیر علی محمد راشدی کا یوم وفات
——
تحریک جمہوریت ہو،تحریک ختم نبوت،تحریک مصطفیٰ ہو یا یک جہتی اور اتحاد ملی کی کوئی تحریک ، علامہ صاحب ان سب کے روحِ رواں ہی نہیں بلکہ ہر اول دستے کے طور پر متحرک دیکھے جاتے تھے۔
وہ اپنے رفقاء واحباب کے دل وجان سے ہمدرد اور سچے خیرخواہ نظر آتے۔ طلباء دین اور نوخیز نوجوان علماء کی دلجوئی وحوصلہ افزائی ایک مشفق استاد کی طرح کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں متناسب قدوقامت کے ساتھ جسمانی صحت وتوانائی اور بڑے رعب ودبدبے سے نوازا تھا۔ عام وخاص مجالس ہوں یا عظیم اجتماعات ان کی شخصیت اور گفتگو وکلام کا بانکپن انتہائی دلربا ہوتا۔ حق گوئی وبیباکی انکا طرئہ امتیاز تھا۔ گویا وہ اس شعر کے آئینہ وعکس تھے :
——
ہر حال میں حق بات کا اظہار کریں گے
منبر نہیں ہوگا تو سرِ دار کریں گے
——
مایوسی یا افسردگی احسان الہٰی ظہیر صاحب کی لغت میں تھی ہی نہیں۔ کسی معاملہ میں جب وہ عزم کر لیتے تو کٹھن راہوں یا قید وبند کی صعوبتوں کی ہرگز پرواہ نہ کرتے۔
فقہی مصلحت کو وہ کسی طرح خاطر میں نہ لاتے۔ساتھیوں کو علم وفضل سے بہرہ ور لوگوں کو ہمیشہ خوددادی وعزیمت کی نصیحتیں کرتے ، صاحب ثروت اور امراء کی عزت کرتے مگر علماء وفقراء پر انہیں کبھی ترجیح نہ دیتے۔
ذیلی سطور میں علامہ صاحب رحمہ اللہ کے بارے میں کچھ مختصر معلومات لکھی جاتی ہیں۔
——
ولادت
——
احسان الہٰی ظہیر 31 مئی 1945ء بمطابق 18 جمادی الاول بروز جمعرات سیالکوٹ کے محلہ احمد پورہ میں ایک دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد حاجی ظہور الٰہی امام العصر حضرت مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی کےعقیدت مندوں میں سے تھے۔آپ تمام بہن بھائیوں میں بڑے تھے۔
——
تعلیم وتربیت
——
ابتدائی تعلیم اپنے محلہ کے پرائمری اسکول میں حاصل کی اسی دوران ابھی آپ کی عمر ساڑھے سات برس ہی تھی کہ آپ کو اونچی مسجد میں قرآن مجید حفظ کرنے کے لیے بھیجاگیا آپ کو بچپن سے ہی پڑھنے لکھنے کا شوق تھا۔ خداداد ذہانت وفطانت اور اپنے ذوق وشوق کی بنا پر نوبرس کی عمر میں آپ نے قرآن کریم حفظ کر لیا اور اسی سال نماز تراویح میں آپ نے قرآن سنا بھی دیا۔ابتدائی دینی تعلیم دار السلام سے حاصل کیااس کے بعد محدث العصر فضیلۃ الشیخ حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ کے مدرسہ جامعہ الاسلامیہ گوجرانوالہ چلے گئے اور کتب حدیث سے فراغت کے بعد جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں داخلہ لیا جہاں علوم وفنون عقلیہ کے ماہر فضیلۃ الشیخ مولانا شریف سواتی رحمہ اللہ سے آپ نے معقولات کا درس لیا۔
1960ء میں دینی علوم کی تحصیل سے فراغت پائی اور پنجاب یونیورسٹی سے عربی میں بی اے اونرز کی ڈگری حاصل کی اور پھر کراچی یونیورسٹی سے لاء کا امتحان پاس کیا۔ 1960 میں ایم اے فارسی اور 1961ء میں اردو کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے ملت اسلامیہ کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ اسلامیہ (مدینہ منورہ) میں داخلے کی سعادت نصیب ہوئی اور آپ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ آپ اس وقت مدینہ یونیورسٹی میں دوسرے پاکستانی طالب علم تھے ان دنوں مدینہ یونیورسٹی میں 98 ممالک کے طلباء زیر تعلیم تھے۔
——
اساتذہ کرام
——
آپ نے تاریخ کے نامور اور وقت کے ممتاز علماء سے کسب علم حاصل کیا۔ ان میں سرفہرست
1فضیلۃ الشیخ علامہ ناصر الدین الالبانی
2فضیلۃ الشیخ محمد امین شنقیطی
3فضیلۃ الشیخ عطیہ محمد سالم (قاضی مدینہ منورہ)
4علامہ عبد العزیز بن الباز (رئیس ادارۃ البحوث الاسلامیہ)
5فضیلۃ الشیخ علامہ عبد المحسن العباد وغیرہ شامل ہیں۔
——
علمی اعزاز
——
مدینہ یونیورسٹی میں دوران تعلیم علامہ صاحب کی کتاب’’القادیانیہ‘‘ کے نام سے وہاں ایک ادارہ نے شائع کر دی ابھی ٹائٹل کی اشاعت وطباعت باقی تھی ۔ علامہ صاحب ابھی تک فائنل امتحان سے فارغ نہیں ہوئے تھے وہ کتاب پر’’الاستاذ احسان الٰہی ظہیر‘‘ فاضل مدینہ یونیورسٹی لکھنا چاہتے تھے تو علامہ صاحب فرمانے لگے میں ابھی تک فارغ نہیں ہوا۔ اگر آپ لکھنا چاہتے ہیں تووائس چانسلر صاحب سے اس کی اجازت لے لیں چنانچہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے ناشر کو اجازت دے دی۔ علامہ صاحب نے شیخ صاحب سے عرض کیا :
’’ شیخ صاحب! آپ نے اسے اجازت مرحمت فرمادی لیکن فیل ہوگیا تو کیا بنے گا؟ ‘‘ شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے فرمایا :|||’’ اگر تم امتحان میں فیل ہوگئے تو میں یونیورسٹی میں اپنا عہدہ چھوڑ دوں گا۔‘‘
بحمد اللہ تعالیٰ شیخ ابن باز کی عین تمنا کے مطابق علامہ صاحب امتحان میں 98 ممالک کے طلباء میں اول پوزیشن حاصل کی آپ نے 93 فیصد نمبر حاصل کیئے۔
ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ
مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد آپ کو یونیورسٹی میں منصب تحقیق وتدریس پیش کیاگیا لیکن آپ نے اپنے وطن کی خدمت کو ترجیح دی۔شاید ذمہ داران جامعہ نے اندازہ لگانے میں غلطی کی تھی۔انہیں اس بات کا غالباً پوری طرح ادراک نہیں ہوا تھا کہ پاکستان کا یہ آزاد شیر کبھی پنجرے میں بند ہونے کوگوارہ نہیں کرے گا۔ شاید ان پر علامہ اقبال کا یہ شعر پوری طرح صادق آرہا تھا۔
——
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
——
تصنیفات
——
زمانۂ تعلیم ہی سے تصنیف وتالیف کا کام شروع کر دیا تھا، کم وبیش بیس ضخیم کتابیں تالیف کیں۔ اس کے علاوہ بے شمار مقالات ومضامین لکھے ان کی آخری کتاب شہید ہونے سے 8 گھنٹے قبل مکمل ہوئی تھی آپ کیچند اہم کتابوں کےنام درج ذیل ہیں :
1 القادیانیۃ دراسات وتحلیل (عربی)
2التصوف (عربی)
3 مرزائیت اور اسلام ( اردو)
4البابیۃ عرض ونقد (عربی)
5 البھائیۃ نقد وتحیل (عربی)
6الشیعۃ والسنۃ (عربی)
7الشیعۃ والقرآن (عربی)
8البریلویۃ عقائد وتاریخ (عربی)
9 الاسماعیلیۃ (عربی)
0 الشیعۃ وأھل بیت (عربی)
——
ان میں سے اکثر کتب کے دس سے زیادہ ایڈیشن نکل چکے ہیں۔
دنیا کی کوئی کئی زندہ زبانوں میں ان کتابوں کے ترجمے ہوئے ہیں ۔
’’الشیعہ والسنہ‘‘ کے صرف انڈونیشی زبان میں تین ترجمے ہوئے ہیں جن میں ایک پر ’’پیش لفظ‘‘ انڈونیشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر محمد ناصر نے لکھا ہے۔
——
صحافت
——
میدان صحافت میں آپ طویل عرصہ رہے اورمختلف اوقات میں ’’ہفت روزہ الاعتصام‘‘ ، ’’ ہفت روزہ اہل حدیث‘‘ ، ’’ہفت روزہ الاسلام‘‘ کے مدیر رہے۔ پھر اپنا ذاتی ماہنامہ ’’ترجمان الحدیث‘‘ نکالا جس کے تاحیات مدیر رہے۔
——
خطابت
——
یہ احسان الہٰی ظہیر کا مخصوص ومحبوب ترین میدان تھا۔ آپ کی شعلہ بیانی اور اثر آفرینی کا ایک زمانہ قائل ہے۔ پاکستان کے ایک نامور ادیب صحابی وخطیب آغا شورش کاشمیری نے اپنی کتاب ختم نبوت میں علاصہ صاحب کے بارے میں یہ الفاظ لکھے : ’’ علامہ صاحب ایک شعلہ بیان خطیب، معجز رقم ادیب، بالغ نظر صحافی اور بہت سی زبانوں میں مہارت تامہ رکھنے کے باوجود دوررس نگاہ کے عالمِ متبحر ہیں۔‘‘
——
ہر مدعی کے واسطے دارورسن کہاں
یہ رتبہ بلند ملا جسے مل گیا
——
وفات
——
بے اعتبار شخص تھا، سووار کرگیا
لیکن میرے شعور کو بیدار کر گیا
پہلے وہ میری ذات کی تعمیر میں رہا
پھر مجھ کو اپنے ہاتھ سے مسمار کر گیا
وہ آ ملا تو فاصلے کٹتے چلے گئے
بچھڑا تو راستے میرے دشوار کر گیا
بچھڑا کچھ ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویراں کر گیا
——
زندگی اس دنیا میں آنے کا نام ہے اور موت اس دنیا سے رخصت ہونے کا نام ہے ۔ قانون الٰہی ہے جو اس دنیا میں آیا ہے اس نے اِس دنیا سے واپس ضرور جانا ہے اور وہ وقت کب آجائے کوئی نہیں جانتا۔رب العالمین نے اس موت وحیات کے قانون کا مقصد سورت ’’ملک‘‘ میں بیان فرمایا :
الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (الملك: 2)
کامیاب وہی شخص ہوگا جو اپنی زندگی کو مقصد الٰہی کے مطابق اس کے تابع ہوکر گزارے اور موت کے وقت عندیہ مل جائے۔
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر: 27 – 30)
اور اس موت کا کیا کہنا کہ جس موت سے حیاۃابدی مل جائے اور رب العالمین اعلان فرمادیں :
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ (آل عمران: 169)
تاریخ میں ایسے ولی کامل بہت کم گزرے ہیں جنہوں نے رب سے اپنی موت مانگی اور رب نے ان کا خاتمہ ان کی مرضی ومنشا کے مطابق فرمادیا۔
ایسی ہی ایک ہستی،سرخیل مسلک اہل حدیث کی ممتاز شخصیت عظیم سیاسی لیڈر، اسلام کے بے باک سپاہی شہید ملت اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر کی ذات ہے جنہوں نے اپنی تقاریر میں متعدد بار رب سے شہادت کی دعا مانگی اور بالآخر 23 مارچ 1987ء کو قلعہ لچھمن سنگھ لاہور میں ایک عظیم الشان سیرت النبی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے بم دھماکے میں علامہ صاحب شدید زخمی ہوگئے اور اسی حالت میں پانچ دن تک ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رہے۔
29 مارچ کو پونے پانچ بجے سعودی ائیر لائن کی پرواز کے ذریعہ شاہ فہد رحمہ اللہ کی دعوت پر سعودی عرب علاج کے لیے روانہ ہوئے آپ کو فیصل ملٹری ہسپتال میں داخل کیاگیا۔سعودی عرب کے ڈاکٹروں نے اور حکمرانوں نے علامہ صاحب کے علاج ومعالجہ میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی لیکن اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا۔
واہ حسرتاہ ! امام العصر کا یہ ساختہ وپرداختہ خلوص وللہیت کا یہ مسجمہ علم وآگہی کا یہ سراپا، دین ودانش کا یہ مرقع 30 مارچ 1987ء میں لاکھوں عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ کر رفیق اعلی سے جا ملا۔ انا للہ وإنا إلیہ راجعون
——
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
تم ہی سوگئے داستاں کہتے کہتے
آہ ! زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے ۔
یہ جانکاہ ! خبر اسلامیانِ عالم کے دلوں پر بجلی بن کر گری اور کچھ دیر کے لیے پورے ماحول پر سکون طاری ہوگیا ، گھڑیاں رک گئیں، وقت ٹھہر گیا اور جو جہاں تھا وہیں اس اندوہ ناک خبر کے زیراثر حزن وغم کے اتہاہ سمندر میں ڈوب گیا۔
——
تدفین
——
دوسرے دن شیر الٰہی کی لاش سعودی عرب کے ایک فوجی جہاز کے ذریعہ ریاض سے مدینہ منورہ بھیج دی گئی ان کے ساتھ ان کے اخوان واحباب اور شیدائیوں کی ایک جماعت بھی گئی۔
سعودی عرب کے اطراف واکناف سے علامہ صاحب رحمہ اللہ کے ہزاروں چاہنے والے مسجد نبوی میں ان کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے اور ان کے جسد خاکی کو ان کے سینکڑوں شیدائیوں کی معیت میں جنت البقیع لے جایاگیا اور انہیں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کر دیاگیا ۔
——
کس مٹی کا کس سے رشتہ ہے معلوم تو ہو
کتبوں پر لکھوا دینا یہ لوگ کہاں سے آئے تھے
——
رحمہ اللہ رحمۃ الأبرار وغفر لہ وأدخلہ فسیح جناتہ
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ