’’اخترِ خستہ طیبہ کو سب چلے تم بھی اب چلو‘‘

 

’’اخترِ خستہ طیبہ کو سب چلے تم بھی اب چلو‘‘

راہِ طیبہ کی طرف چلتے ہوئے پھولو پھلو

کیف میں جھومتے رہو اوج پہ پہنچا بخت ہے

’’جذب سے دل کے کام لو اُٹھو کہ وقتِ رفت ہے‘‘

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رات بیدار ہے کونین کی آنکھیں روشن
جانِ گلزارِ مصطفائی تم ہو
محمدؐ با خدا پیشِ نظر ہیں
آپؐ ہیں خیر البشر خیر الوریٰ میرے نبیؐ
یہ عطائے خدا ہے نعمت ہے
محبت ہے مجھے رب العلیٰ سے
کسی کو مال و دولت سے نوازا
بس اسی کو ہے ثنائے مصطفی لکھنے کا حق
’’خاک ہو جائیں عدوٗ جل کر مگر ہم تو رضاؔ ‘‘
’’روز و شب مرقدِ اقدس کا جو نگراں ہو گا‘‘