اردو دنیا کے شہنشاہ ظرافت دلاور فگار کا یوم پیدائش

آج اردو دنیا کے شہنشاہ ظرافت دلاور فگار کا یوم پیدائش ہے

‘‘دلاور حسین المتخلص فگار 8 جولائی 1929 کو ہندوستان کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش (یو پی) کے مشہور و معروف مردم خیز قصبے بدایوں میں پیدا ہوئے، جس کی مٹی نے بڑی بڑی نامی گرامی شخصیات کو جنم دیا ہے۔
اگرچہ پاکستان میں بھی فگار صاحب کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی مگر ان کی شہرت کے ڈنکے اس سے بہت پہلے پورے ہندوستان بلکہ پوری اردو دنیا میں خوب زور و شور کے ساتھ بج چکے تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ وہ جس مشاعرے میں جاتے اس پر چھا جاتے تھے اور اپنے منفرد کلام اور پڑھنے کے انداز سے مشاعرہ لوٹ لیا کرتے تھے۔ اس سے انکار نہیں کہ ان کے ہم عصروں میں بھی بڑے بڑے مزاح گو شامل تھے، مگر ان کی بات ہی کچھ اور تھی۔ جن لوگوں نے فگار صاحب کو ہندوستان اور پاکستان میں مشاعروں میں کلام پڑھتے ہوئے دیکھا ہے وہ بلا تامل و تکلف اس بات کی گواہی دیں گے۔ ہمارا نہ یہ منصب ہے اور نہ مقام کہ فگار صاحب کا کسی سے موازنہ کریں لیکن خدا لگتی کی بنا پر اتنا ضرور عرض کرنا چاہیں گے کہ مزاح گوئی میں اکبر الہ آبادی کے بعد اگر ہمیں کسی نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے تو وہ دلاور فگار ہی ہیں۔
مزاح نگاری اور مزاح گوئی بڑا جان جوکھوں کا کام ہے۔ یہ تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہے۔ اس میں بھول چوک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ زبان و بیان کی معمولی سی لغزش کے نتیجے میں بڑے سے بڑا مزاح گو پھکڑ پن اور ابتذال کی گہری کھائی میں گر سکتا ہے۔ فگار صاحب کا سب سے بڑا کمال یہی تھا کہ وہ کبھی ڈگمگائے نہیں۔ ان کا ایک اور بڑا کمال یہ ہے کہ انہوں نے زندگی کے بڑے بڑے مسائل کی ایک انتہائی ماہر سرجن کی طرح سرجری کی ہے اور طنز و مزاح کے نشتروں کو نہایت احتیاط اور چابکدستی کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ ان کے کلام کی آفاقیت اور ہمہ گیری ان کی مزاح نگاری کا ایک نمایاں وصف ہے۔ ان کے اشعار آج بھی اسی طرح تروتازہ اور حسب حال ہیں۔ عام آدمی کی روز مرہ زندگی کے مسائل کو اپنے منفرد و دلچپ انداز میں پیش کرنے پر انھیں عبور حاصل تھا۔
فگار صاحب نے شعر گوئی کا آغاز 14 برس کی عمر میں 1942 میں کیا۔ بہت جلد انھیں مولوی جام نوائی بدایونی اور مولانا جامی بدایونی جیسے اساتذہ کی صحبت اور رہنمائی میسر آئی جس نے ان کی صلاحیتوں کو نکھار دیا۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے قصبے بدایوں ہی میں حاصل کی اور بعدازاں آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایم اے (انگریزی) اور ایم اے (اکنامکس) کی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔ اپنے کیرئیر کا آغاز انھوں نے ہندوستان میں درس و تدریس سے کیا اور ہجرت کرکے کراچی آنے کے بعد عبدااللہ ہارون کالج میں بحیثیت لیکچرار کچھ عرصے تک اردو پڑھائی، جہاں فیض صاحب پرنسپل ہوا کرتے تھے۔
فگار صاحب کو صرف شاعری پر ہی نہیں نثر پر بھی عبور حاصل تھا مگر ان کی شہرت ایک مزاح گو شاعر کے طور پر ہی ہوئی۔ پہلی مرتبہ جب انھوں نے دہلی میں اپنی نظم ’’شاعراعظم‘‘ پڑھ کر سنائی تو ان کی مزاح گوئی کی دھوم مچ گئی اور پھر وہ وقت بھی آیا جب انھیں ’’شہنشاہ ظرافت‘‘ اور ’’اکبر ثانی‘‘ جیسے خطابات سے نوازا گیا جس کے وہ بلاشبہ بجا طور پر مستحق تھے۔ درس و تدریس کے علاوہ وہ کچھ عرصہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ٹاؤن پلاننگ کے طور پر کے ڈی اے سے بھی وابستہ رہے جسے معاشی جبر یا غم روزگار بھی کہا جاسکتا ہے۔ پھر ’’اے روشنی طبع تو برمن بلا شدی‘‘ کے مصداق ان پر ایک کڑا وقت بھی آیا جب انھیں اپنا سایہ بھی گریزاں نظر آیا۔ بس یہی وہ وقت تھا جب ہمیں ان کا انتہائی قرب میسر آیا اور ان کا بیشتر وقت ہمارے ساتھ ہی گزرنے لگا۔ اگر اس عرصہ دشوار کو خیر مستور یا Blessing in Disguise کہا جائے تو شاید یہ مبالغہ نہ ہوگا کیونکہ اس خاکسار کے مشورے کے نتیجے میں ہی وہ شاہکار منظر عام پر آیا جس کا عنوان ’’خوشبو کا سفر‘‘ ہے۔ 100 منتخب ملکی اور غیرملکی آفاقی منظومات کے انگریزی سے اردو میں تراجم پر مشتمل یہ کتاب دلاور فگار صاحب کا ایک بہت بڑا اور لافانی کارنامہ ہے۔ اس ترجمے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ترجمے پر اصل کا گمان ہوتا ہے۔ بس یوں کہیے کہ فگار صاحب نے قادر الکلام کی حیثیت سے ان نظموں کو اردو کے سانچے میں دھال دیا۔ مثلاً ٹی ایس ایلیٹ کی مشہور نظم Moving Starirs کے ایک اقتباس کا ترجمہ بعنوان ’’چلتی سیڑھیاں‘‘ ملاحظہ فرمائیں:
جیسے پت جھڑ میں نرم شاخوں سے
پتیاں نیچے گرنے لگتی ہیں
یونہی زینہ کے نقش میں اکثر
سیڑھیاں چلنے پھرنے لگتی ہیں
دلاور فگار صاحب کی اس منظوم دعا کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیے جس سے انھوں نے ’’خوشبو کا سفر‘‘ کا آغاز کیا ہے:
میرے اللہ، اے میرے معبود
میری فکر سخن ہو لامحدود
میری فکر ونظر کو وسعت دے
بوئے گل کو سفر کی رخصت دے
میرا فن ہو فراسٹ کا ابہام
کسی صحرا میں ہو مجھے بھی شام
’’خوشبو کا سفر‘‘ کے پیش لفظ میں بعنوان ’’پیش دستی‘‘ کے آخر میں فگار صاحب لکھتے ہیں کہ ’’سوچتا ہوں کہ ترجمہ کا یہ سلسلے یہیں ختم نہ ہو بلکہ کچھ عرصے بعد اسی قسم کا ایک اور مجموعہ پیش کروں‘‘۔ مگر افسوس کہ زندگی اور حالات زندگی نے انھیں اتنی مہلت ہی نہ دی کہ وہ یہ کام سرانجام دیتے جوکہ ان کی کلاہ میں ایک اور سرخاب کے پر کے مترادف ہوتا۔
اگرچہ دلاور فگار صاحب کی وجہ شہرت ان کی مزاحیہ شاعری ہی قرار پائی لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ہمہ جہت قادر الکلام سخنور تھے، ان ہی کے الفاظ میں ’’لوگ کہتے ہیں کہ میں طنز و مزاح نگار ہوں۔ گویا کہ طنز نگاری شاعری یا کم ازکم سنجیدہ شاعری سے الگ کوئی فن ہے۔ جہاں تک میری طنز نگاری کا تعلق ہے، یہ میری سنجیدہ شاعری ہی کی بنیاد پر مبنی ہوتی دوسری منزل ہے۔ ظاہر ہے کہ بالاخانہ کو گراؤنڈ فلور سے الگ نہیں کیا جاسکتا‘‘۔ شاید بہت کم لوگ اس بات سے آگاہ ہوں گے کہ دلاور فگار ایک منفرد نعت گو بھی تھے۔ دراصل ان کی شخصیت اتنی ہمہ گیر اور پہلو دار تھی کہ ایک مختصر سے کالم میں اس کا احاطہ کرنا ناممکن کی جستجو کے مترادف ہوگا۔ ایک مرتبہ کراچی آرٹس کونسل کے ایک ادبی اجتماع میں انھوں نے نہایت دلچسپ انداز میں اپنے تخیلاتی آسمانی سفر کا قصہ سنایا تھا جس کے دوران فرشتوں نے انھیں جنت میں داخل ہونے سے محض اس بنا پر روک دیا تھا کہ وہ مقررہ وقت سے قبل وہاں پہنچ گئے تھے، فرشتوں کا کہنا تھا کہ وہ واپس جائیں اور پانچ سال بعد وہاں آئیں۔ یہ 31 جنوری 1993 کا واقعہ تھا۔ اس کے تقریباً پانچ سال بعد یعنی 25 جنوری 1998 فگار صاحب نے رخت سفر باندھا اور ملک
عدم سدھار گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

شاعر سے شعر سنئے تو مصرع اٹھائیے

اک بار اگر نہ اٹھے دوبارہ اٹھائیے

 

کوئی کسی کی لاش اٹھاتا نہیں یہاں

اب خود ہی اپنا اپنا جنازہ اٹھائیے

 

اغوا ہی کرنا تھا تو کئی تھے لکھ پتی

کس نے کہا تھا روڈ سے کنگلا اٹھائیے

 

کوئی قدم اٹھانا تو ہے راہ شوق میں

اگلا قدم نہ اٹھے تو پچھلا اٹھائیے

 

اسٹیج پر پڑا تھا جو پردہ وہ اٹھ چکا

جو عقل پر پڑا ہے وہ پردہ اٹھائیے

 

پوشیدہ بم بھی ہوتے ہیں کچرے کے ڈھیر میں

ہشیار ہو کے روڈ سے کچرا اٹھائیے

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کل اک ادیب و شاعر و ناقد ملے ہمیں

کہنے لگے کہ آؤ ذرا بحث ہی کریں

 

کرنے لگے یہ بحث کہ اب ہند و پاک میں

وہ کون ہیں کہ شاعرِ اعظم کہیں جسے

 

میں نے کہا ‘جگر’ تو کہا ڈیڈ ہو چکے

میں نے کہا کہ ‘جوش’ کہا قدر کھو چکے

 

میں نے کہا کہ ‘ساحر’ و ‘مجروح’ و ‘جاں نثار’

بولے کہ شاعروں میں نہ کیجیے انہیں شمار

 

میں نے کہا ادب پہ ہے احساں ‘نشور’ کا

بولے کہ ان سے میرا بھی رشتہ ہے دور کا

 

میں نے کہا ‘شکیل’ تو بولے ادب فروش

میں نے کہا ‘قتیل’ تو بولے کہ بس خموش

 

میں نے کہا کچھ اور! تو بولے کہ چپ رہو

میں چپ رہا تو کہنے لگے اور کچھ کہو

 

میں نے کہا ‘فراق’ کی عظمت پہ تبصرہ

بولے فراق شاعرِ اعظم ارا اورہ

 

میں نے کہا کلامِ ‘روش’ لاجواب ہے

کہنے لگے کہ ان کا ترنم خراب ہے

 

میں نے کہا ترنمِ ‘انور’ پسند ہے

کہنے لگے کہ ان کا وطن دیو بند ہے

 

میں نے کہا ‘خمار’ کا بھی معتقد ہوں میں

داڑھی پہ ہاتھ پھیر کے کہنے لگے کہ "ایں”

 

میں نے کہا ‘سحر’ بھی ہیں خوش فکر و خوش مزاج

بولے کہ یوں مزاح کا مت کیجیے امتزاج

 

میں نے کہا کہ ‘ساغر’ و ‘ آزاد’ بولے نو

پوچھا کہ ‘عرش’ بولے کوئی اور نام لو

 

میں نے کہا کہ ‘فیض’ کہا فن میں کچا ہے

میں نے کہا کہ ‘شاد’ تو بولے کہ بچہ ہے

 

میں نے کہا ‘فنا’ بھی بہت خوش کلام ہے

بولے کہ واہ نظم میں کچھ سست گام ہے

 

میں نے کہا کہ نظم میں ‘وامق’ بلند ہیں

کہنے لگے کہ وہ تو ترقی پسند ہیں

 

میں نے کہا کہ ‘شاد’ تو بولے کہ کون شاد

میں نے کہا کہ ‘یاد’ تو بولے کہ کس کی یاد

 

میں نے کہا ‘قمر’ کا تغزل ہے دل نشیں

کہنے لگے کہ ان میں تو کچھ جان ہی نہیں

 

میں نے کہا ‘عدم’ کے یہاں اک تلاش ہے

بولے کہ شاعری اسے وجۂ معاش ہے

 

میں نے کہا ‘حفیظ’ تو بولے کہ خود پسند

میں نے کہا ‘رئیس’ تو بولے قطعی بند

 

میں نے کہا ‘نیاز ‘ تو بولے عجیب ہیں

میں نے کہا ‘سرور’ تو بولے کہ نکتہ چیں

 

میں نے کہا ‘اثر’ تو کہا آؤٹ آف ڈیٹ

میں نے کہا کہ ‘نوح’ تو بولے کہ تھرڈ ریٹ

 

میں نے کہا کہ یہ جو ہیں ‘محشر عنایتی’

کہنے لگے کہ آپ ہیں ان کے حمایتی

 

میں نے کہا کہ یہ جو ہیں ‘گلزار دہلوی’

بولے برہمن کو بھی ہے شوق شاعری

 

میں نے کہا کہ ‘انور’ و ‘دائم’ بھی خوب ہیں

بولے مری نظر میں تو سب کے عیوب ہیں

 

میں نے کہا کہ ‘روحی’ و ‘مخفی’ ، ‘نگاہ’ و ‘ناز’

بولے کہ میرے گھر میں بھی ہے اک ادب نواز

 

میں نے کہا کہ یہ جو ‘دلاور فگار’ ہیں

بولے کہ وہ تو طنز و ظرافت نگار ہیں

 

میں نے کہا کہ طنز میں اک بات بھی تو ہے

بولے کہ اس کے ساتھ خرافات بھی تو ہے

 

میں نے کہا کہ آپ کے دعوے ہیں بے دلیل

کہنے لگے کہ آپ سخنور ہیں یا وکیل

 

میں نے کہا کہ ‘فرقت’ و ‘شہباز’ کا کلام

کہنے لگے کہ یہ بھی کوئی لازمی نہیں

 

میں نے کہا تو کس کو میں شاعر بڑا کہوں

کہنے لگے کہ میں بھی اسی کشمکش میں ہوں

 

پایانِ کار ختم ہوا جب یہ تجزیہ

میں نے کہا ‘حضور’ تو بولے کہ شکریہ

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

جادۂ فن میں بڑے سخت مقام آتے ہیں

مر کے رہ جاتا ہے فنکار امر ہونے تک

 

کتنے غالبؔ تھے کہ پیدا ہوئے اور مر بھی گئے

قدر دانوں کو تخلص کی خبر ہونے تک

 

کتنے اقبالؔ رہِ فکر میں اٹھے لیکن

راستہ بھول گئے ختمِ سفر ہونے تک

 

کتنے شبیر حسن خان بنے جوشؔ کبھی

مر گئے کتنے سکندر بھی جگرؔ ہونے تک

 

فیضؔ کا رنگ بھی اشعار میں آ سکتا تھا

انگلیاں ساتھ تو دیں خون میں تر ہونے تک

 

ہم نے دیکھے ہی کہاں ہیں وہ ندیمؔ اور فراقؔ

جو بہر رنگ نہ جل پائے سحر ہونے تک

 

چند ذروں کو ہی ملتی ہے ضیائے خورشید

چند تارے ہی چمکتے ہیں سحر ہونے تک

 

دلِ شاعر پہ کچھ ایسی ہی گزرتی ہے فگارؔ

جو کسی قطرے پہ گزرے ہے گہر ہونے تک

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ضرورت رشتہ

 

ایک لڑکا ہے اصیل النسل عالی خاندان

عمر ہے لڑکے کی ففٹی سکسٹی کے درمیان

 

قبض رہتا ہے نہ اس کو نزلہ کی تحریک ہے

ایک دن ٹی بی ہوئی تھی اب طبیعت ٹھیک ہے

 

آنکھ کی اک شمع روشن، دوسری تھوڑی سی گل

مختصر یہ ہے کہ لڑکا ہے بہت ہی بیوٹی فل

 

پی کے ما اللحم جب ملتا ہے داڑھی پر خضاب

اس کے چہرہ پر نظر آتے ہیں آثار شباب

 

طالب رشتہ، قیود علم سے آزاد ہے

کچھ ادیبوں کی طرح وہ فطرتاً استاد ہے

 

اس کے ہاتھوں میں کسی بھی ’’ ازم‘‘ کا تیشہ نہیں

اس مسلماں کو کسی فتوے کا اندیشہ نہیں

 

عالموں کے ساتھ رہ کر وہ بھی جید ہو گیا

پہلے جانے کیا تھا، رفتہ رفتہ سید ہو گیا

 

بر بنائے مصلحت یا بر بنائے انتقام

آج تک کنوارا ہے یہ وحدت پرستوں کا امام

 

اس کے بارے میں یہی کہتی ہے دنیا بالعموم

وہ موحد ہے اور اس کا کیش ہے ترک رسوم

 

شب کو براتے میں کہتا ہے مجھے دولہا بناؤ

کوئی بیوہ ہو تو اس کو میری منکوحہ بناؤ

 

کیا بتاؤں کس قدر دلچسپ باتیں اس کی ہیں

"نیند اس کی ہے، دماغ اس کا ہے، راتیں اس کی ہیں”

 

شادیوں کی آج چونکہ گرمیِ بازار ہے

کوئی کنوارا شہر میں بچنا بہت دشوار ہے

 

سوچتا ہے اب کہ سہرا باندھ لے یہ نونہال

پیر نابالغ کو اب آیا ہے شادی کا خیال

 

اس کو لڑکی چاہیئے، لڑکی جو آوارہ نہ ہو

درحقیقت چاند ہو، مصنوعی سیارہ نہ ہو

 

جامعہ کی کوئی بھی ڈگری ہو اس کے ہاتھ میں

کوئی ڈپلومہ نہ لائی ہو سند کے ساتھ میں

 

زلف پیچاں کی جگہ پٹھے نہیں رکھتی ہو وہ

گھر پہ پہرہ کے لئے ’’کتے‘‘ نہیں رکھتی ہو وہ

 

اس کو لڑکی چاہئے، جو صورتاً لڑکا نہ ہو

جس کے دل میں شعلہ مردانگی بھڑکانہ ہو

 

لڑکی میکے میں قیام مستقل فرمائے گی

حال میں دو چار دن سسرال بھی آ جائے گی

 

لڑکی اپنے ساتھ لائے کم سے کم دو لاکھ کیش

تاکہ لڑکا بعد شادی کر سکے آرام و عیش

 

مستعد شوہر تو بس لیٹا رہے گا، صبح و شام

نان نفقہ کا بھی بیگم خود کریں گی انتظام

 

کوئی دوشیزہ اگر ہو حامل جملہ صفات

خط میں لکھ بھیجے کہ کس دن اس کے گھر پہنچے برات

 

بیاہ کی درخواست پر اردو میں لکھئے یہ پتا

عاشق ناشاد، ون بی، فیڈرل بی ایریا

 

کاش بر آئے کسی خاتون کے دل کی مراد

"ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابنِ انشا کی زمین میں دلاور فگار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کل چودھویں کی رات تھی آباد تھا کمرہ ترا

ہوتی رہی دھک دھک دھنا، بجتا رہا طبلہ ترا

 

شوہر، شناسا، آشنا، ہمسایہ، عاشق، نامہ بر

حاضر تھا تیری بزم میں ہر چاہنے والا ترا

 

عاشق ہیں جتنے دیدہ ور، تو سب کا منظورِ نظر

نتھا ترا، فجّا ترا، ایرا ترا، غیرا ترا

 

اک شخص آیا بزم میں، جیسے سپاہی رزم میں

کچھ نے کہا یہ باپ ہے، کچھ نے کہا بیٹا ترا

 

میں بھی تھا حاضر بزم میں، جب تو نے دیکھا ہی نہیں

میں بھی اٹھا کر چل دیا بالکل نیا جوتا ترا

 

یہ مال اک ڈاکے میں کل دونوں نے مل کرلوٹا ہے

انصاف اب کہتا ہے یہ، آدھا مرا، آدھا ترا

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

بارہ بنکی سے ملی ہے یہ الم ناک خبر

ایک انسان نے کیا ایک گدھے کا مرڈر

 

ہے! یہ قتل جس میں کوئی ملزم نہ وکیل

نہ عدالت، نہ وکالت، نہ ضمانت، نہ اپیل

 

ایں چہ ظلم است کہ بدیدہِ ترمی بےنام

تیغِ قاتل ہمہ گردانِ خرمی بے نام

 

خر بھی اب جنگ کو تیار نظر آتے ہیں

عالمی جنگ کے آثار نظر آتے ہیں

 

اس سے پہلے کہ بھڑک اٹھیں گدھوں کے جذبات

خرِ مقتول کے بارے میں یہ ہو تحقیقات

 

یہ گدھا کون تھا ، کس ملک کا باشندہ تھا؟

کیا کسی خاص جماعت کا نمائندہ تھا

 

قتل سے پہلے کس بات پر شرمندہ تھا؟

کیا ثبوت اس کا وہ مردہ تھا یا زندہ تھا؟

 

بحر تقریر کبھی اس نے زبان کھولی تھی ؟

اور کھولی تھی تو اردو تو نہیں بولی تھی؟

 

اب سے پہلے وہ پرستارِ وفا تھا کہ نہیں ؟

یہ جوان مرگ ہمیشہ سے گدھا تھا کہ نہیں؟

 

یہ بھی معلوم کیا جائے بہ تحقیقِ تمام

کس لیے قتل ہوا ہے یہ خرِ گل اندام

 

کہیں یہ قتل سیاست کا نتیجہ تو نہیں ؟

مرنے والا کسی لیڈر کا بھتیجا تو نہیں ؟

 

کہیں اس قتل کے پیچھے کوئی سازش تو نہیں ؟

کہیں یہ بھی کمیونسٹوں کی نوازش تو نہیں ؟

 

کہیں اس قتل کے پیچھے کوئی رومان نہ ہو ؟

کہیں یہ قتل کسی نظم کا عنوان نہ ہو ؟

 

کہیں بیمارِ غمِ دل تو نہیں تھا یہ گدھا ؟

کہیں خود اپنا ہی قاتل تو نہیں تھا یہ گدھا؟

 

مجھ کو ڈر ہے یہ گدھا حق کا پرستار نہ ہو

ذوق کے دور میں غالب کا طرفدار نہ ہو

 

اگر ایسا ہے تو اس قتل پہ افسوس ہی کیا

مارنے والا بھی گدھا ، مرنے والا بھی گدھا

 

ہاں مگر غم ہے تو اس کا کہ جواں تھے موصوف

صرف ایک خر ہی نہیں، فخرِ خراں تھے موصوف

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شاعر عباس تابش کا یوم پیدائش
ممتاز شاعر، کالم نگار احمد ندیم قاسمی کا یوم وفات
معروف ناول نگار زلیخا حسین کا یوم وفات
معروف شاعر اور گیت نگار نقش لائلپوری کا یومِ وفات
ممتاز شاعر ، ادیب گویا جہان آبادی کا یوم وفات
نغمہ نگار اور شاعر گلزار کا یومِ پیدائش
ممتاز شاعر اور صحافی شمس زبیری کا یومِ وفات
معروف شاعرہ عائشہ بیگ عاشی کا یومِ پیدائش
عالمِ دین سید ابوالاعلٰی مودودی کا یوم پیدائش
اردو شاعر اور مفسر قرآن حمید نسیم کا یوم ِ پیدائش

اشتہارات