اردوئے معلیٰ

Search

ازل سے روح کی اس در سے آشنائی ہے

بہت ہی شاق مدینہ تری جدائی ہے

 

حضور آپ نہ ہوتے تو تھی عدم دنیا

خدا نے آپ کی خاطر فقط سجائی ہے

 

حضور آپ کی توصیف اور مجھ سا غبی

زمیں پہ رہتے ہوئے عرش تک رسائی ہے

 

سکونِ قلب میسر ہوا ہے اس لمحہ

لکھی ہے نعت تو بس آپ کو سنائی ہے

 

اٹھائے منتِ اغیار کیوں گدا ان کا

ہمارے ہاتھ میں دامانِ مصطفائی ہے

 

نبی کی نعت رہے لب پہ حشر کے دن بھی

مری حیات کی زاہدؔ یہی کمائی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ