اسوۂ کاملہ مرحبا مرحبا

اسوۂ کاملہ مرحبا مرحبا

خلد کا راستہ مرحبا مرحبا

 

رشک جس پر کریں سب کے سب انبیأ

آپ کا مرتبہ مرحبا مرحبا

 

ظلمتِ شب میں انؐ کے قدم سے ہوئی

نور کی ابتدا مرحبا مرحبا

 

وہ تہی دامنوں پر رہیں ملتفت

وہ سراپا سخا مرحبا مرحبا

 

جن کے ملبوس پر چاند پیوند کے

وہ شۂ دوسرا مرحبا مرحبا

 

مجھ پہ تیرا کرم اور لطف و عطا

میرے خیرالوریٰؐ مرحبا مرحبا

 

اپنی قسمت پہ اشعرؔ مجھے ناز ہے

اُنؐ کا مدح سرا مرحبا مرحبا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مجھے کامل یقین ہے، التجاؤں میں اثر ہو گا
بے نوا ہوں مگر ملال نہیں
عشق کا ہے یہ ہنر،میں ہوں یہاں نعت خواں
سرکار کی مدحت کو ہونٹوں پہ سجانا ہے
’’اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب‘‘
جبینِ خامہ حضورِ اکرم کے سنگِ در پر جھکائے راکھوں
کسے نہیں تھی احتیاج حشر میں شفیع کی
میم تیرے نام کی تلخیصِ ہست و بود ہے
پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
مجھے آپؐ سے جو محبت نہ ہوتی

اشتہارات