اسی در کا ہی گدا ہوں اسی در کی ہے گدائی

اسی در کا ہی گدا ہوں اسی در کی ہے گدائی

وہی در ہی آسرا ہے مری عمر کی کمائی

 

وہی در ہوا ہے عالی اسی در کا ہوں سوالی

اسی در کا ہو کھڑا ہوں لئے کاسئہ گدائی

 

وہی درد کا ہے درماں ہوا لاکھ اسکا احساں

وہی ہر الم کا رد ہے وہی درد کی دوائی

 

اسی اسم کی ولا ہے اسی اسم کی عطا ہے

اسی اسم سے دعا کو ہوئی ہر گھڑی رسائی

 

وہی اسم اسمِ ارحم وہی اسم ہے مکرّم

مرے کام آگئی ہے اسی اسم کی دہائی

 

اسی کی ہے مدحِ لا حد وہی روگ روگ کا رد

اسی اسم سے ہے عالم وہی اسم ہے اکائی

 

وہی حکم ہے الہٰ کا وہی سلسلہ عطا کا

اسی در سے ہی اے سائل ملی درد سے رہائی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ