اردوئے معلیٰ

اسی لئے تو ہر اک شے پہ ضوفشانی ہے

اسی لئے تو ہر اک شے پہ ضوفشانی ہے

کہ دو جہانوں پہ آقا کی حکمرانی ہے

 

فضائے شہرِ مدینہ نہ ہوگی کیوں پر نور

جب اس پہ دستِ محمد کی سائبانی ہے

 

جو لمحہ یادِ نبی کے بنا گزرتا ہے

وہ رائیگانی ہے سچ مچ کی رائیگانی ہے

 

نصیب میں مرے رب لکھ سفر مدینے کا

جہاں کی صبح تو کیا شام بھی سہانی ہے

 

یہ معجزہ بھی ذرا دیکھ دو جہانوں پر

یہ جن کا سایہ نہیں ان کی سائبانی ہے

 

یہ قطرہ قطرہ جو بہتا ہوں اپنی آنکھوں سے

یہ اپنے اصل کی جانب مری روانی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ