اسی لئے تو ہے میرا سفر مدینے کا

اسی لئے تو ہے میرا سفر مدینے کا

مجھے بھی ہونا ہے جا کر شجر مدینے کا

 

میں جان و دل سے ہوں احسان مند اُن سب کا

سمجھتے ہیں جو مجھے بھی حجر مدینہ کا

 

بکھیرتا ہے اجالے جو نور کے ہر سُو

چمک دمک سے ہے اپنی قمر مدینہ کا

 

مِلا ہے جو بھی، جِسے بھی، مِلا ہے حسبِ طلب

میں خوش نصیب، ملا مجھ کو در مدینے کا

 

ہے مجھ پہ چھائی جو یہ وجد کی ہے کیفیّت

یہ ذہن و دل پہ ہے اب تک اثر مدینہ کا

 

شکست و فتح کے تاریخ میں سفر ہیں بہت

جو کربلا سے مگر ہے سفر مدینہ کا

 

مری صدا پہ فرشتے ٹھہر کے دیکھتے ہیں

یہ اس لیے کہ ہوں دریوزہ گر مدینہ کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ