اس بے کل دل کی دھڑکن سے چاہت کا اک تار بندھا ہے

اس بے کل دل کی دھڑکن سے چاہت کا اک تار بندھا ہے

تار بھی کیسا انہونا جو ساگر کے اُس پار بندھا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اس طرح ہنستے ہوئے خبریں پڑھیں لڑکی نے
یہ کس نے منظروں کو خاک کردیا کومل
رستوں کا خوف ہے نہ مجھے فاصلوں کا ڈر
عشق
روشنی ہی روشنی ہیں جس طرف سے دیکھئے
اپنوں نے بھی منّت کی، غیروں نے بھی سمجھایا
کارِ وفا محال تھا، ناکام رہ گیا
بجھتے بجھتے بھی اندھیروں میں کرن چھوڑ گیا
لہروں پہ سفینہ جو مرا ڈول رہا ہے
ھر چیز مُشترک تھی ھماری سوائے نام