اردوئے معلیٰ

اس قدر تیر کمیں گاہِ جنوں سے نکلے

ہم بھی تھک ہار کے اب شہرِ فسوں سے نکلے

 

وہ بھی گویا کہ دھواں بن کے فضآء میں بکھرا

ہم بھی شعلے کی طرح اپنی حدوں سے نکلے

 

چوٹ پڑتی رہی نقارے پہ اک عمر تلک

صرف ہم تھے کہ جو درانہ صفوں سے نکلے

 

ایک پتھر کی طرح گرتے ہوئے یاد آیا

جوشِ پرواز میں ہم اپنے پروں سے نکلے

 

آج ناخن سے کھرچ ڈال سبھی نقش مرے

کیا خبر کون سی تہذیب تہوں سے نکلے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات