اس کا درشت لہجہ اسے اس طرح

اس کا درشت لہجہ اسے اس طرح پھبا

سلکی بدن پہ جیسے سجے کھردری قمیض

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سےکر لی
جب جب بھی خالی پرس کی جانب نظر اٹھی
تم نے دیکھے نہیں فرصت سے خدوخال مرے
مصائب اور تھے پر دل کا جانا
دل کے اندر بھی کوئی تجھ سا کہاں تھا لیکن
ہوا کے سرد ہونے سے مجھے تسکین ملتی ہے
تم بھی شاید وہیں سے آۓ ھو
وجودِ عشق سے انکار کرنے والا تھا
دکھ میں اب بھی پکارتی ہوں "​ماں"​
اور ان دنوں کسی سے بھی مطلب نہیں مجھے