اس کے طرز سخن کے مارے لوگ

اس کے طرز سخن کے مارے لوگ

اپنا لہجہ کہاں بدلتے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ترے بِن گھڑیاں گِنی ھیں رات دن
خموشیوں کی زباں بھی سمجھنا ہو گی اُسے
کیے ہجّے ، پڑھی میں نے محبت
کون زندہ ہے کون مر گیا ہے
لبوں پہ جان ہے اک دم کا اور میہماں ہے
سنتا ہے یہاں کون سمجھتا ہے یہاں کون
اس محبت کو مرے پیر کی زنجیر نہ جان
کی لوکاں تے تھپنی مرضی
یہ ہم ہی جانتے ہیں جدائی کے موڑ پر
وہ جو آسودۂِ ساحل ہیں انہیں کیا معلوم

اشتہارات