اشرف الانبیاء ہے ہمارا نبی

اشرف الانبیاء ہے ہمارا نبی

وہ نبی کون؟ امت کا پیارا نبی

 

بلبلوں نے جو دیکھی ملاحت تری

گل کو صدقے میں تجھ پر اتارا نبی

 

تم ہو وہ حسن والے کہ اللہ نے

اپنا محبوب کہہ کر پکارا نبی

 

اور نبیوں کو مخصوص تھیں امتیں

ہر اک عالم کا بادی ہمارا نبی

 

آج یوسف بھی ان کی غلامی میں ہے

تم نے دیکھا زلیخا ہمارا نبی

 

ہے شفاعت کے سہرے کی سر پہ پھبن

آج دولہا بنا ہے ہمارا نبی

 

بحر عصیاں کے گرداب میں ناؤ ہے

ڈوبا ڈوبا مجھے دو سہارا نبی

 

کوچ اکبر کا جس وقت دنیا سے ہو

لب پہ جاری ہو کلمہ تمہارا نبی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مدحتِ شاہ سے آغاز ہوا بسم اللہ
مصروفِ حمدِ باری و مدحِ حضورؐ تھا​
غنچہ و گل میں نہ ہرگز مشک اور عنبر میں ہے
غریبوں کی جو ثروت ہیں ، ضعیفوں کی جو قوت ہیں
عجب پر نور تھا اس دم سماں معراج کی شب
محمدِ مصطفیٰ کو دیکھو
اے کاش! عزیز اِتنی صداقت مجھے مل جائے
بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
چمک جب تک رہی اعمال میں اُس پاک سیرت کی
دیکھ اے دل! یہ کہیں مژدہ کوئی لائی نہ ہو