اردوئے معلیٰ

الفاظ ڈُھونڈتا ہے مِرے حسب حال کیا؟

دے گا مِرے سوا کوئی میری مثال کیا؟

 

جاتا عروج ، کیا مرا ، لے کر اجازتیں؟

آتا ہے پوچھ کر بھی کسی کو زوال کیا؟

 

حیرت کی بات یہ ہے کہ حیرت ہے آج بھی

اک مستقل ملال کا ورنہ ملال کیا؟

 

بوسیدگی سے خاک ہوئی جب کہ آرزو

کیا سہل رہ گیا ہے بھلا اب محال کیا؟

 

معدوم ہو رہے ہیں مرے نقش دن بدن

عجلت میں کٹ رہے ہیں مرے ماہ و سال کیا؟

 

بن کر بگڑ رہے ہیں سرِ آب ، دائرے

میرا خیال کیا ہے ، تمہارا جمال کیا ؟

 

کیا عرض کر سکوں گا جو بالفرض رک سکوں

سانسیں ترے حضور رہیں گی بحال کیا؟

 

سجدوں سے ہو سکیں گے زمینوں میں منتقل

پیشانیوں کی لوح پہ کندہ سوال کیا؟

 

تو نے بہت وثوق سے ماضی گِنا مجھے

اور تجھ سے انحراف کی میری مجال کیا؟

 

ناصر بچا ہی کیا ہے بجُز دست بستگی

زخموں سے چور ہاتھ کی بنتی ہے ڈھال کیا؟

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات