اردوئے معلیٰ

اللہ اللہ کیا سفر کیا روح پرور خواب تھا

فرشِ ریگِ راہِ طیبہ بسترِ سنجاب تھا

 

نطقِ جاں شیرینیء مدحت سے لذت یاب تھا

یہ کتابِ زندگی کا اک درخشاں باب تھا

 

ارضِ طیبہ پر قدم تو کیا ، نظر جمتی نہ تھی

"​ذرہ ذرہ روکشِ خورشیدِ عالم تاب تھا "​

 

بن گیا اشکِ ندامت میری بخشش کا سبب

بربطِ امید کب سے تشنہء مضراب تھا

 

صبح کا تارا حضوری کا پیامی بن گیا

رات ہجرِ مصطفےٰ میں دل بہت بیتاب تھا

 

آنکھ بیتابِ نظارا تھی نہ دل تھا مضطرب

اُن کے در پر ہر کوئی شائستہء آداب تھا

 

اللہ اللہ روبرو ہے گنبدِ خضرا ایاز

بن گیا عینِ حقیقت جو نظر کا خواب تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات