اللہ کے گھر کی ہے تنویر مدینے میں

اللہ کے گھر کی ہے تنویر مدینے میں

کیونکر نہ چمک جائے تقدیر مدینے میں

 

سرکار کے صدقے میں سرکار کی رحمت سے

پاتا ہے ہر اک انساں توقیر مدینے میں

 

تاحدِ نظر جس میں انوار کا عالم ہو

اس خواب کی ملتی ہے تعبیر مدینے میں

 

صحرائے تمنا میں کھلتے ہیں گلِ رحمت

ہر ایک دعا پائے تاثیر مدینے میں

 

بس کفر کے سینے میں ہوتا ہے ترازو جو

ملتا ہے ہمیں ایسا اک تیر مدینے میں

 

دنیا کا کوئی منظر جن پر نہ اثر ڈالے

حیرت سے وہ بنتے ہیں تصویر مدینے میں

 

اے نورؔ ہمارا تو اس بات پہ ایماں ہے

ہر ذرۂ خاکی ہے اکسیر مدینے میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ