امکانِ حرف و صوت کو حیرت میں باندھ کر

امکانِ حرف و صوت کو حیرت میں باندھ کر

لایا ہُوں خامشی تری مدحت میں باندھ کر

 

اے قاسمِ خیالِ مرصّع ! قبول ہو

اِک بے ہُنر کلام عقیدت میں باندھ کر

 

اب تیری چشمِ خیر و شفاعت کی دیر ہے

رکھی ہیں لغزشیں تری نسبت میں باندھ کر

 

لکھتا ہُوں نعتِ نور کو طلعت سے متّصل

رکھتا ہُوں اسمِ رنگ کو نکہت میں باندھ کر

 

مجھ کو بھی اپنے ساتھ مدینے میں لے کے چل

اے جذبِ بیکراں مری حسرت میں باندھ کر

 

اوجِ غزل خجل تری قامت کے روبرو

کیسے ثنا ہو شعر کی وسعت میں باندھ کر

 

ایمان بے نمود ہے عرفان کے بغیر

طاعت کو سینچتا ہُوں محبت میں باندھ کر

 

آیا ہوا ہے تیرے مدینے میں اک غریب

شوق و نیاز و عجز کو غُربت میں باندھ کر

 

مقصودؔؔ اُن کے اِسمِ گرامی کی طلعتیں

لایا ہُوں اپنے ساتھ مَیںنُدرت میں باندھ کر

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جسے عشق شاہ رسولاں نہیں ہے
کتنا سادہ بھی ہے سچا بھی ہے معیار ان کا
اتری ہے َرقْص کرتے ہوئے شبنمی ہوا
یہ آرزو ہے جب بھی کُھلے اور جہاں کُھلے
اُس ایک ذات کی توقیر کیا بیاں کیجے
رحمت عالم محمد مصطفی
مایوسیوں کا میری سہارا تمہیں تو ہو
آرام گہِ سید سادات یہ گنبد
محفل میں تھا اکیلا , تھے جذبات منفرد
اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا

اشتہارات