اردوئے معلیٰ

انتساب

اُس سے منسوب کروں
اُس کی ہی نذر میں سب گزرانوں
یہ عقیدت کے گلاب اور سمن
جو ہے محبوبِ زمن
جو ہے مطلوبِ چمن
جو نبوت کا اَمیں ٹھہرا تھا
اس گھڑی!
جب کہ ابھی آدمؑ بھی
آب اور گِل سے نہیں گزرا تھا
کل بھی تھیں اس کی طرف… عشق کی نہری جاری
آج بھی سیلِ عقیدت ہے اُسی سمت رواں

میں بایں دیدۂ حیراں … اُسی جانب نگراں
میرے ہرجذبۂ الفت کا
وہی سرچشمہ
میرے احساس کی قندیل
اسی سے روشن
وہ شہہِ دشت و دمن
وہ شہنشاہِ سخن
جس کے تکلم میں بسی تھی خوشبو
جس کے الفاظ میں تنویرِ رسالت کی جھلک
تا بہ ابد
وہ نظر دیکھ سکے گی جس کو
تابِ نظارگیٔ حسنِ صداقت ہوگی
وہ نظر کتنی قیامت ہوگی!!!
اُس کا پیغام دلوں کی دھڑکن
از کراں تابہ کراں
اُس کی عقیدت کے نشاں
روشن تر

وہ شہِ جن و بشر
زینتِ شمس و قمر
اُس کی رحمت کا شجر
دھوپ کے دشت میں
ہر شخص کی منزل ٹھہرا
آدمی بن کے جو آیا تو
دریں ارض و سما
بس وہی کامل ٹھہرا
قریۂ جاں میں وہی نور شمائل ٹھہرا
زیست کا حاصل ٹھہرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ