اردوئے معلیٰ

انتظار اک واقعے کا اس قدر میں نے کیا

انتظار اک واقعے کا اس قدر میں نے کیا
جس نے مجھ کو مستعد رکھا سدا
گو کہ میں رو رو کے آخر
وقت کی دہلیز پر، تھک ہار کر
چپ ہوگیا!
میں نصیحت کا تمنائی ہمیشہ ہی رہا
ایک کے بعد ایک وصف اُن کا سنا
جس دم خدیجہؓ سے (یقیں میرا بڑھا!)
اے خدیجہؓ تونے جو اوصاف بتلائے تھے(اس صالح جواںکے)
ان کو سن کر بڑھ گیاہے انتظار اس وقت کا
(جب نبوت کا کریں اعلان وہ برحق نبی !)
انتظار ایسا کہ جو ہوتا رہا بے حد طویل
(ہاں) خدیجہؓ! مجھ کو ہے اُمیدِ واثق
تو نے جو باتیں کہی ہیں
اُن کو ظاہر ہوکے رہنا ہے ضرور!
درمیاں مکے کے دو بطنوں کے
ظاہر ہوں گے سب آثار جتنے تونے بتلائے مجھے
یہ نہیں مجھ کو گوارا… قولِ قِس باطل ٹھہر جائے یہاں
یا غلط ہوجائیں وہ باتیں
جو کہتے آئے ہیں رُہبانِ دیں!
بالیقیں ہوں گے محمد(مصطفیٰ ) سردارِ (کل)
ان کی جانب سے کرے گابحث جو کوئی
وہ غلبہ پائے گا !
ہے یقیں مجھ کو کہ پھیلے گی ہدایت ہر طرف
ہر شہر میں !
روشنی مخلوقِ رب کو سیدھے رستے
لائے گی!
اور بکھرنے سے بچالے گی وہ ہر اک قوم کو
جنگ،جو اُن سے کرے گا وہ یقینا
ہو کے پسپا، مضمحل ہوجائے گا!
ہا ں مگر جس نے بھی ان کی پیروی کرنے میں
اپنی جاں کھپا دی
وہ ظفر مندوں میں ہوگا!
اب تمنا ہے کہ میں، اے کاش !
زندہ رہ سکوں اُس وقت تک
جب میری پیشیں گوئی کا
ہر ایک منظرہو نمایاں اور روشن
میں رہوں زندہ تو دیکھوں
وہ ظہورِ دینِ حق آنکھوں سے اپنی
اور بنوں سب سے زیادہ حصہ دار
اس دیں میں داخل ہونے والے
مؤمنوں کا!
ہو کراہت جس سے مشرک قرشیوں کو !
بس وہی شئے (اور وہی پیغام) میری سربلندی کا ہو ضامن
ہے یہی اُمید رب سے!
(ہاںسنو! اُم القریٰ کے مشرکوں کو)
اب بڑی ذلت ملے گی !
اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی
گراوٹ اور ذلت …بد نصیبوں کی؟
کہ وہ اُن کی ہی عظمت کے ہوں منکر
جنہیں رب نے زمیں تا آسماں
اونچے ہی برجوں کے لیے
پیدا کیا ہے؟
کہ جو() اعلیٰ مَناصِب کے لیے ہی مُنْتَخَبْ ہیں
انہی کی عظمتوں کے ہوکے منکر
(عداوت پر اُتر آئیں وہ ان کی)
رہیں وہ بھی یہیں، اور میں بھی پالوں وہ زمانہ
تو پھر (واللہ!) وہ بھی دیکھ لیں گے
یہ سارے واقعات (آنکھوں سے اپنی)
وہ سب آہ و بکا مل کر کریں گے!
اگر مر جاؤں میں، اس دن سے پہلے!
تو یہ خوش خُلق وبا ہمت جواں مردِ(رَجائی)!
قضا کے اور قَدَرْ کے فیصلوں پر
اُٹھایا جائے گا اک دن جہاں سے
یہاں سے بالیقیں جانا ہی ہوگا !!!

 

قصیدۂ نعتیہ؛ورقہ بن نَوْفَل؛(پہلا با قاعدہ نعتیہ قصیدہ) آزاد منظوم ترجمہ:

سفرِ شام سے واپسی کے بعد جب حضرت خدیجہؓ (ام المؤمنینؓ) نے اپنے غلام میسرہ

کی زبانی آپ کے اوصاف اور بُحَیْرہ و نسطورا(راہبوں) کی باتیں سنیں تو ورقہ بن نوفل

سے آپ کا ذکر کیا۔بزرگ ورقہ الٰہیات کے بہت بڑے عالم تھے اور مذہباً عیسائی۔

ورقہ نے اس موقع پر وہ مشہور قصیدہ کہا جسے بعض سیرۃ نگاروں نے وحیِ اُوْلیٰ کے

واقعہ سے منسوب کیا ہے۔ (وحیِ اولیٰ سے) یہ انتساب درست نہیں۔(ارشاد شاکر اعوان،

عہدِ رسالت میں نعت، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، طبعِ اول جنوری ۱۹۹۳ء،۳۸)٭عزیزؔ احسن

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ