اندازہ کر کے دیکھیے اس کے مقام کا

اندازہ کر کے دیکھیے اس کے مقام کا

کرتا ہے ورد جو کہ محمد کے نام کا

 

دیکھا کریں گے ساقیِ کوثر کی رفعتیں

یوں ہم کو اشتیاق ہے کوثر کے جام کا

 

پھیلی ہوئی ہے روشنی جس سمت دیکھیے

چھیڑا ہے کس نے ذکر مدینے کی شام کا

 

سب انبیاء حضور کے پیچھے کھڑے ہوئے

کیا مرتبہ ، مقام ہے اُن سے امام کا

 

پاتا ہوں اک سُرور سا اپنے وجود میں

سنتا ہوں جب بھی تذکرہ خیر الانام کا

 

اذنِ دیارِ پاک مجھے کیجیے عطا

کچھ بندوبست کیجئے آقا غلام کا

 

ارض و سما خدا نے بنائے ہیں پر قمرؔ

مقصد حضورِ پاک ہیں اس اہتمام کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ