انداز کریمی کا نِرالا نہیں گیا

انداز کریمی کا نِرالا نہیں گیا

اُن سے کیا سوال تو ٹالا نہیں گیا

 

جب عرض کی کہ جھولی ہے خالی کرم کریں

’’اِتنا کرم ہُوا کہ سنبھالا نہیں گیا‘‘

 

اُن پر دُرود پڑھنے کی برکت ہے بے مثال

دِل کے نگر سے نور کا ہالہ نہیں گیا

 

جو بھی نبی کا ہو گیا دَر، دَر سے بچ گیا

غیروں کے دَر پہ مانگنے والا نہیں گیا

 

جب سے نبی کا نام لیا گھر میں بیٹھ کر

تب سے ہمارے گھر سے اُجالا نہیں گیا

 

یہ اُن کے جسمِ عَنبریں کا فیض ہی تو ہے

دُنیا سے خوشبوئوں کا حوالہ نہیں گیا

 

رب کی طرف سے منکروں کی جھولی میں کبھی

صدقہ نبی کا دوستو! ڈالا نہیں گیا

 

اُن کی شفاعتوں کے سبب ہی رضاؔ مِرا

پٹکا بروزِ حشر اُچھالا نہیں گیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

عطا ہوتے ہیں بحر و بر گدا دل سے اگر مانگے
جو ان کے عشق میں آئینہ فام ہو جائے
شاعری کے ماتھے پر ان کی بات مہکے گی
مدینہ دیکھ کر دل کو بڑی تسکین ہووے ہے
پڑا ہوں سرِ سنگِ در مورے آقا
آقاﷺ کی محبت ہی مرے پیشِ نظر ہو
جب بھی پہنچا ہوں آقاؐ کے دربار تک
روشن ہیں دو جہاں میں بدرالدجی کے ہاتھ
قمر کو شقِ قمر کا حسین داغ ملا
میرے دل میں ہے یاد محمد ﷺ میرے ہونٹوں پہ ذکر مدینہ