انداز کریمی کا نِرالا نہیں گیا

انداز کریمی کا نِرالا نہیں گیا

اُن سے کیا سوال تو ٹالا نہیں گیا

 

جب عرض کی کہ جھولی ہے خالی کرم کریں

’’اِتنا کرم ہُوا کہ سنبھالا نہیں گیا‘‘

 

اُن پر دُرود پڑھنے کی برکت ہے بے مثال

دِل کے نگر سے نور کا ہالہ نہیں گیا

 

جو بھی نبی کا ہو گیا دَر، دَر سے بچ گیا

غیروں کے دَر پہ مانگنے والا نہیں گیا

 

جب سے نبی کا نام لیا گھر میں بیٹھ کر

تب سے ہمارے گھر سے اُجالا نہیں گیا

 

یہ اُن کے جسمِ عَنبریں کا فیض ہی تو ہے

دُنیا سے خوشبوؤں کا حوالہ نہیں گیا

 

رب کی طرف سے منکروں کی جھولی میں کبھی

صدقہ نبی کا دوستو! ڈالا نہیں گیا

 

اُن کی شفاعتوں کے سبب ہی رضاؔ مِرا

پٹکا بروزِ حشر اُچھالا نہیں گیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ