اردوئے معلیٰ

اندھیری رات ، اُداسی ، دُھند ، سردی

اندھیری رات ، اُداسی ، دُھند ، سردی

چلو فارس ! کریں آوارہ گردی

 

اُمیدیں جل بُجھِیں ایک ایک کرکے

کسی نے آتے آتے دیر کردی

 

ھزاروں رت جگوں کے بعد کل رات

مُجھے اِک خواب نے تیری خبر دی

 

غزل کی شاخ پر جب پھُول آیا

کسی کی یاد نے دادِ ھُنر دی

 

دل و جاں نیلمیں سے ھوگئے ھیں

کھُلا جب سے وہ آنچل لاجوردی

 

مجھے یہ کیا ھُوا بیٹھے بٹھائے ؟

کہ اشکوں سے تری تصویر بھر دی

 

گُلابی وقت کم کم رہ گیا ھے

فضا میں پھیلتی جاتی ھے زردی

 

مری کچھ دوست چڑیوں نے سحر دم

مرے خاموش دِل میں جان بھر دی

 

مَیں چُپ ھوجاوں گا ، پھر بھی چلے گی

مری آواز کی صحرا نوَردی

 

اُنہیں پازیب پہنائی تو مَیں نے

متاعِ جاں بھی اُن پیروں پہ دھر دی

 

ھمارے دھیان یُوں گھُل مِل گئے ھیں

کہ مَیں نے بات سوچی ، تُو نے کر دی

 

وھی دے گا مرے صحرا کو سبزہ

کہ جس نے بادلوں کو چشمِ تر دی

 

کسی کو خُوبصُورت کہہ کے تُو نے

مرے دِل میں عجب تشویش بھر دی

 

اُن آنکھوں کے چراغوں نے ھی فارس

مری راتوں کو اُمّیدِ سحر دی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ