اردوئے معلیٰ

ان کی مدحت کو قلم تحریر کر سکتا نہیں

ان کی مدحت کو قلم تحریر کر سکتا نہیں

حرفِ موجِ نور کو زنجیر کر سکتا نہیں

 

جس کا مسلک پیرویٔ اسوۂ سرکار ہے

کوئی اس انسان کو تسخیر کر سکتا نہیں

 

ذہن و دل کا مرکز و محور نہ ہو جب تک وہ ذات

کوئی اپنی ذات کی تعمیر کر سکتا نہیں

 

لا سے الا اللہ تک گر مصطفی رہبر نہ ہوں

منزلوں کا فیصلہ راہ گیر کر سکتا نہیں

 

آپ ہی سے زندگی نے پائے ہیں ایسے چراغ

کوئی جھونکا جن کو بے تنویر کر سکتا نہیں

 

معرفت اسمِ محمد کی نہ ہو جب تک امید

آدمی قرآن کی تفسیر کر سکتا نہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ