ان کا نہیں ہے ثانی نہ ماضی نہ حال میں

ان کا نہیں ہے ثانی نہ ماضی نہ حال میں

میرے نبی ہیں یکتا جمال و کمال میں

 

آئے ہیں جب بھی وہ حسنِ خیال میں

نکھرے تمام رنگِ سخن اک جمال میں

 

ظلمت کو دور کر کے وہ لائے ہیں روشنی

چمکا ہے نور جہل کے ذہن و خیال میں

 

لائے وہ پنج وقتہ نمازوں کے سلسلے

تحفہ ملا تھا عرش پہ رب سے وصال میں

 

گزرے ہیں جس طرف سے فضائیں مہک اٹھیں

خوشبوئیں جاگزیں ہیں مرے خوش خصال میں

 

آقا کی ہو رہیں تھیں یہ تم پر عنایتیں

مضمون آ رہے تھے جو زاہدؔ خیال میں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زمین جس پہ نبوت کے تاجدار چلے
سرکا رکے جلووں سے معمور نظر رکھئیے
نعت کہنا مری قسمت کرنا
لے چلا مجھ کو طالعِ بیدار
جب بھی نگاہ کی ہے کِسی پر حضور نے
چلے زمِین سے جب آپ لامکاں کے لئے
حسن تمام و لطف سراپا تمہی تو ہو
پائندہ تیرا نور اے شمع حرم رہے
نعلین گاہِ شاہ سے لف کر دیئے گئے
شاداں ہیں دونوں عالم، میلادِ مصطفیٰ پر

اشتہارات