اردوئے معلیٰ

ان کا نہیں ہے ثانی نہ ماضی نہ حال میں

میرے نبی ہیں یکتا جمال و کمال میں

 

آئے ہیں جب بھی وہ حسنِ خیال میں

نکھرے تمام رنگِ سخن اک جمال میں

 

ظلمت کو دور کر کے وہ لائے ہیں روشنی

چمکا ہے نور جہل کے ذہن و خیال میں

 

لائے وہ پنج وقتہ نمازوں کے سلسلے

تحفہ ملا تھا عرش پہ رب سے وصال میں

 

گزرے ہیں جس طرف سے فضائیں مہک اٹھیں

خوشبوئیں جاگزیں ہیں مرے خوش خصال میں

 

آقا کی ہو رہیں تھیں یہ تم پر عنایتیں

مضمون آ رہے تھے جو زاہدؔ خیال میں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات