’’ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت‘‘

 

’’ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت‘‘

دور اک پل میں ہوئی ظلم و ستم کی صورت

جب سے نظروں میں سمائی ہے حرم کی صورت

’’یاد بھی اب تو نہیں رنج و الم کی صورت‘‘

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آتے رہے انبیا کَمَا قِیلَ لَھُم
پڑے غفلت میں تھے گوتھے دئیے ہم
نقشِ پا اُنؐ کا میرے سینے میں
رحمتوں کی ردا حبیبِ خداؐ
محبت میرے دِل میں مصطفیٰؐ کی
ہے اُمت آپؐ کی خوار و زبوں و منتشر آقاؐ
درِسرکارؐ پر ہر دم گھٹا رحمت کی چھائی ہے
چہرۂ اقدس بدرِ مُنیر
’’جان ہے عشقِ مصطفا، روز فزوں کرے خدا‘‘
’’خدا خیر سے لائے وہ دن بھی نوریؔ ‘‘

اشتہارات