اردوئے معلیٰ

Search

ان کے ہوئے تو کوئی مصیبت نہیں رہی

اہلِ ستم کی کوئی شرارت نہیں رہی

 

بیمار نے درود جو لب پر سجا لیا

اب درد کیا؟ سرے سے جراحت نہیں رہی

 

میرے کریم آپ کے طیبہ کو دیکھ کر

کچھ اور دیکھ لینے کی چاہت نہیں رہی

 

اپنے رسولِ پاک کی جب دید ہو گئی

من میں کسی کی کوئی بھی صورت نہیں رہی

 

زاہدؔ کو مل گئی ہے محبّت جو آپ کی

پھر آپ سی کسی کی محبّت نہیں رہی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ