اَے دُنیا کے باغ کے مالی

اَے دُنیا کے باغ کے مالی

اَے اپنے بندوں کے والی

 

دِل کے مالک ، جان کے مالک

دُنیا اور جہان کے مالک

 

دوسرا تجھ سا کوئی نہیں

تجھ سا داتا کوئی نہیں

 

بخش ہمارے جسم کو طاقت

بخش ہمیں محنت کی عادت

 

پڑھنے پر دِل مائِل کردے

علم وہنر میں کامل کردے

 

ہمت دے کچھ کام کریں ہم

جگ میں روشن نام کریں ہم

 

دِل میں وطن کی اُلفت بھر دے

خدمتِ قوم کے قبل کر دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تو اپنی رحمتوں کا ابر برسا، خداوندا تو ہم پہ رحم فرما
زباں پر حمدِ باری ہے، مرے آنسو نہیں تھمتے
خدا کا لطف ہے مجھ پر کرم ہے
خدا کی یاد سے یوں دل لگا لو
مجھے الفاظ کی خیرات عطا کر
سرِّ توحید
تو ہے مشکل کشا، اے خدا، اے خدا
لفظ میں تاب نہیں، حرف میں ہمت نہیں ہے
خوشا وہ دن حرم پاک کی فضاؤں میں تھا
سرورِ قلب و جاں، اللہ ہی اللہ