اُن سے ملنے کا یقیں دل میں لیے بیٹھے ہیں

اُن سے ملنے کا یقیں دل میں لیے بیٹھے ہیں

اپنی آنکھوں کو بنائے جو دیے بیٹھے ہیں

 

دل میں ہے یادِ نبی اور لبوں پر مدحت

کیسا ہم خیر کا سامان کیے بیٹھے ہیں

 

اس لیے اور کسی سمت نظر اُٹھتی نہیں

ہم مدینے کے نظارے جو کیے بیٹھے ہیں

 

دلِ مضطر کو لیے یوں ہی نہیں بیٹھے ہم

آرزو دل میں مدینے کی لیے بیٹھے ہیں

 

اسمِ احمد کے بنا کچھ بھی ہمیں جچتا نہیں

جام مدحت کا فدا ایسا پیے بیٹھے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ