اُنؐ کی دہلیز پہ سر جب بھی کیا خم ہم نے

اُنؐ کی دہلیز پہ سر جب بھی کیا خم ہم نے

پا لیا روح کے ہر زخم کا مرہم ہم نے

 

دل کی تسکین چھِنی، عزت و ناموس لُٹی

رشتۂ زیست کیا دین سے جب کم ہم نے

 

جذبۂ عشقِ نبی روشن و رخشاں تھا کبھی

روشنی اس کی بھی کر ڈالی ہے مَدَّھم ہم نے

 

بھول بیٹھے ہیں اُخوت کا ہر اک درس بھی ہم

کی ہے یوں بزمِ سکوں آپ ہی برہم، ہم نے

 

اپنے اخیار کی باتوں کو حکایت جانا

ماندگی اوڑھ کے دنیا میں لیا دم ہم نے

 

بے کرانیٔ حیاتِ ابدی بھول گئے

عارضی فائدہ رکھا ہے مقدم ہم نے

 

چھوڑ کر قیمتی اقدارِ یقین و ایماں

اپنے ماحول میں خود گھول دیا سَم ہم نے

 

امتیازِ حق و باطل کہیں باقی نہ رہا

شر کو بھی خیر میں اس طرح کیا ضم ہم نے

 

خوب بدنام ہوئے پھر بھی نہ چھوڑی وہ روش

طرزِ اغیار کو رکھا ہے مکرم ہم نے

 

ہر دعا ہو گئی مقبول اُسی وقت عزیزؔ

جب ندامت سے کیا دیدۂ دل نم ہم نے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

عدن بنا گیا مسجد کو اپنے سجدوں سے
ہر لفظ حاضری کا سوالی ہے نعت میں
کر کے رب کی بندگی خاموش رہ
یہ لبوں کی تھرتھراہٹ یہ جو دل کی بے کلی ہے
ہر طرف لب پہ صل علیٰ ہے ہر طرف روشنی روشنی ہے
قرطاس دل پہ جب لکھا نغمہ رسول کا
من عرف نفسہ فقدعرف ربہ
صد شکر کہ پھر لب پہ محمد کی ثنا ہے
کیسے نہ بیتِ نعت میں خوشبو رچائے حرف
مستند ہے کہا ہوا تیرا

اشتہارات