اردوئے معلیٰ

اُن کی دہلیز پہ سر جب بھی کیا خم ہم نے

پا لیا روح کے ہر زخم کا مرہم ہم نے

 

دل کی تسکین چھِنی، عزت و ناموس لُٹی

رشتۂ زیست کیا دین سے جب کم ہم نے

 

جذبۂ عشقِ نبی روشن و رخشاں تھا کبھی

روشنی اس کی بھی کر ڈالی ہے مَدَّھم ہم نے

 

بھول بیٹھے ہیں اُخوت کا ہر اک درس بھی ہم

کی ہے یوں بزمِ سکوں آپ ہی برہم، ہم نے

 

اپنے اخیار کی باتوں کو حکایت جانا

ماندگی اوڑھ کے دنیا میں لیا دم ہم نے

 

بے کرانیٔ حیاتِ ابدی بھول گئے

عارضی فائدہ رکھا ہے مقدم ہم نے

 

چھوڑ کر قیمتی اقدارِ یقین و ایماں

اپنے ماحول میں خود گھول دیا سَم ہم نے

 

امتیازِ حق و باطل کہیں باقی نہ رہا

شر کو بھی خیر میں اس طرح کیا ضم ہم نے

 

خوب بدنام ہوئے پھر بھی نہ چھوڑی وہ روش

طرزِ اغیار کو رکھا ہے مکرم ہم نے

 

ہر دعا ہو گئی مقبول اُسی وقت عزیزؔ

جب ندامت سے کیا دیدۂ دل نم ہم نے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات