اردوئے معلیٰ

اُن کے رستوں کی گردِ سفر مانگنا

اُن کے رستوں کی گردِ سفر مانگنا

بھول جاؤ گے لعل و گہر مانگنا

 

مانگنا ربِّ اکبر سے عشقِ نبی

سِیم و زر نہ ہی شمس و قمر مانگنا

 

آپ بن مانگے بھی کر رہے ہیں عطا

ہم پہ واجب ہے پھر بھی مگر مانگنا

 

اُن سے کم مانگنا بھی ہے سوئے ادب

اُن سے جب مانگنا بیشتر مانگنا

 

جب بھی طیبہ نگر کا ہو عزمِ سفر

اُن سے زادِ سفر، بال و پر مانگنا

 

میرے آقا کو بالکل نہ اچھا لگا

مجھ خطا کار کا در بدر مانگنا

 

جو خدا کے حبیب اور محبوب ہیں

پیار اُن کا خدا سے ظفرؔ مانگنا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ